خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 146

خطبات ناصر جلد اول ۱۴۶ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء چوتھا نقصان آپ کو اور سلسلہ کو یہ اُٹھانا پڑتا ہے کہ اگر آپ وعد ہ لکھوانے میں ست ہیں تو چاہے بعد میں آپ اپنا وعدہ لکھوا بھی دیں اور اس میں زیادتی بھی کر دیں تب بھی ان مزید اخراجات کی وجہ سے جو دفتر برداشت کرے گا بہت سے ضروری کاموں میں زائد اور نا واجب اخراجات کسی حد تک ہوں کمی کرنی پڑتی ہے کیونکہ آپ نے کل رقم میں سے جس سے یہ کام کئے جانے تھے کچھ روپیہ زبردستی نکال لیا اور ڈاک اور یاددہانی کے دوسرے ذرائع پر ضائع کر دیا۔اس نقصان کے آپ ذمہ دار ہیں۔اور ” آپ سے مراد میری ان لوگوں سے ہے جو وعدہ بھی لکھواتے ہیں اور رقوم بھی ادا کرتے ہیں اور بڑی بشاشت کے ساتھ ادا کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ انہیں اس کا ثواب عطا فرمائے ) لیکن اپنی ستی کی وجہ سے وہ نقصان اُٹھا لیتے ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں اس قسم کے لوگوں کو ان کی سستیوں کی طرف توجہ دلاؤں تا ثواب کے سلسلہ میں انہیں ایک دھیلے کا گھاٹا بھی نہ اُٹھانا پڑے۔پانچواں نقصان جو جماعت اور سلسلہ کو محض آپ کی سستی کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ وکالت مال کو مثلاً ۲۸ فروری تک وعدے لکھوانے کے لئے کوشش اور جدو جہد کرنی پڑے گی اور جماعتوں کو اس طرف توجہ دلانی پڑے گی۔اب اگر ۲۸ فروری تک اس کی تگ و دو اور کوشش کے نتیجہ میں سارے دوست اپنے اپنے وعدے لکھوا دیں تو اس تاریخ کے بعد وکالت مال دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہو سکے گی اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی لیکن اگر آپ مقررہ میعاد کے اندر اپنے وعدے نہیں لکھوائیں گے تو آپ کی سستی کے نتیجہ میں کام کرنے والوں کو پریشانی ہوگی اور آپ میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کی وجہ سے ان واقفین زندگی کو جو مرکز میں بیٹھ کر خدمت دین بجالا رہے ہیں کسی قسم کی پریشانی اٹھانا پڑے اور میں نے آپ کو بتایا ہے کہ آپ لوگوں کی سستی کی وجہ سے مرکز میں کام کرنے والوں کو بہر حال پریشانی اٹھانا پڑتی ہے آپ انہیں اس پریشانی سے بچالیں اور اپنے وعدے مقررہ تاریخ کے اندر لکھوا دیں پھر جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ان وعدوں سے دفتر کو جلد اطلاع دیں میرے خیال میں وعدوں کے لکھوانے میں کچھ ستی تو افراد کرتے ہیں لیکن کسی حد تک اس کی ذمہ داری جماعتوں پر بھی ہے ممکن ہے