خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 125
خطبات ناصر جلد اول ۱۲۵ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء نے محض رحمانیت کے ماتحت ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل عطا کی ہیں تو ہمیں اپنے اس منصو بہ کو کا میاب بنانے میں اپنے آپ کو پورے طور پر لگا دینا ہو گا۔اس منصوبہ کی تفاصیل متعلقہ محکمے تیار کریں اور ایک ہفتہ کے اندر اندر مجھے پہنچا ئیں۔یعنی جو حلقے مجلس خدام الاحمدیہ کو دیئے گئے ہیں اور جو جماعتیں مجلس انصاراللہ کے سپرد کی گئی ہیں اور باقی جماعتیں جو اصلاح وارشاد کے صیغہ کے سپرد کی گئی ہیں ان میں انہوں نے کس کس رنگ میں کام کرنا ہے اس کے متعلق وہ اپنا اپنا منصوبہ تیار کریں اور اس منصوبہ کی تفاصیل ایک ہفتہ کے اندراندر مجھے پہنچا ئیں ان سب محکموں کو یہ بات مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ پہلے ہی سال اس کام میں سو فیصدی نہیں تو ۹۰ فیصدی کامیابی ضرور حاصل کر لیں۔کیونکہ جو ذہین بچے ہیں وہ تو چھ ماہ کے اندر بلکہ بعض بچے اس سے بھی کم عرصہ میں قرآن کریم ناظرہ پڑھ لیں گے قاعدہ میسر نا القرآن اگر صحیح طور پر پڑھا دیا جائے تو بچہ کے لئے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا مشکل نہیں ہوتا۔مجھے یہ سن کر بہت تعجب ہوا ہے کہ ہمارے کالج کے بہت سے طلباء بھی قرآن کریم نہیں پڑھ سکتے اور اگر یہ بات درست ہے کہ ان میں سے ایک تعداد قرآن کریم ناظرہ پڑھنا بھی نہیں جانتی یا ان میں سے بہت سے لڑکے قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے تو انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر انہیں قرآن کریم سے وابستگی نہیں اگر انہیں قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں قرآنی علوم حاصل نہیں تو انہوں نے دنیوی علوم حاصل کر کے کیا لینا ہے۔دنیا کے ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں دہر یہ لوگ دنیا کے ان علوم کو حاصل کر رہے ہیں۔وہ دیکھیں کہ یہ علوم دنیا کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔اُخروی زندگی کو تو چھوڑ و وہ دنیا کو بھی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں وہ دیکھیں کہ آخر دنیا کو ان دنیوی علوم سے کون سی خیر و برکت حاصل ہو رہی ہے۔آج دنیا کے ہر طبقہ کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ جس طرح ہم نے دنیوی علوم سیکھے ہیں اور جس طور پر ہم نے انہیں استعمال کیا ہے وہ انسانیت کو بھلائی کی طرف نہیں بلکہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔غرض ہمارے کالج کا طالب علم ہو اور پھر وہ قرآن کریم سے ناواقف ہو یہ بڑی شرم کی بات ہے۔بہر حال ہم نے یہ کام کرنا ہے اور واضح بات ہے کہ اتنے بڑے کام کے لئے چند مربی یا