خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 117
خطبات ناصر جلد اول ۱۱۷ خطبہ جمعہ ۲۸/جنوری ۱۹۶۶ء تمہاری ہمت اور کوشش یہی ہو۔تمہاری مخلصانہ نیت یہی ہو کہ تم جو نیک کام بھی کرو گے وہ اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے کرو گے اور اگر بوجہ بشر اور کمزور مخلوق ہونے کے تم سے غلطیاں سرزد ہوئیں۔تو میں ان غلطیوں کو معاف کر دوں گا اور معاف کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جب خدا تعالیٰ اس پر مہربان ہو گا اور اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مغفرت کی چادر اس کو اوڑھا دے گا۔تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نیک انسان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔قرآن و حدیث میں ایک طریق کا ذکر آتا ہے کہ اس کے گناہوں اور نیکیوں کا مواز نہ ہوگا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ اچھے اور برے اعمال کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھا جائے گا بُرے اعمال اچھے اعمال کو کینسل (Cancel) کرتے جائیں گے یعنی ان کے اوپر خط تنسیخ کھینچتے چلے جائیں گے۔اگر آخر میں نیک عمل رہ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا۔لیکن اگر کسی کی بد اعمالیاں اس کے نیک اعمال سے زیادہ ہوں گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کا مورد بن جائے گا۔لیکن جس شخص کے بڑے اعمال تھے تو زیادہ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کی چادران پر ڈال دی اور وہ سب معاف کر دئے۔تو اس شخص کے صرف اچھے اعمال ہی باقی رہ گئے۔تو جتنا بدلہ ان اعمال کا الہی قانون کے مطابق مل سکتا ہے وہ اسے مل جائے گا۔پھر اس سے زائد بھی ملے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت بے حد و حساب ہے۔میں نے عید کے خطبہ میں بتایا تھا کہ رحمت کے لفظ میں مغفرت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو بھی معاف کر دے گا اور پھر اچھے اعمال کا اپنے قانون کے مطابق بدلہ بھی دے گا اور پھر اپنی رحمت کے نتیجہ میں اس کو زائد بھی دے گا۔اسی لئے تو اُخروی زندگی میں مومن کو ملنے والی جنت ابدی جنت بن جاتی ہے۔کیونکہ اگر انسان کو محض اس کے اعمال کا ہی بدلہ ملتا تو چاہے وہ اعمال کتنے ہی زیادہ ہوتے بہر حال انہوں نے ایک وقت ختم ہو جانا تھا اور ان محدود اعمال کا بدلہ محدود ہی ملنا تھا اور ایک حد پر آکر ختم ہو جانا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ہم سے رحمت اور احسان کا سلوک کرنا ہے اس لئے اس نے ہمارے لئے ایک ابدی جنت مقدر کر رکھی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم