خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 115
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۱۵ خطبہ جمعہ ۲۸/جنوری ۱۹۶۶ء اصل بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کا فرلوگوں کے سوا کوئی انسان نا امید نہیں ہوتا۔غرض خوف اور مایوسی میں بڑا فرق ہے اور ہمیں اس فرق کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ کہا ہے کہ وہ شخص یا قوم جو خوف کے مقام کو اختیار کرتی ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارتی ہے۔وہ اسے دو جنتیں دیتا ہے ایک جنت اسے اس ورلی زندگی میں عطا ہوتی ہے اور ایک جنت اُخروی زندگی میں اسے ملتی ہے ورلی زندگی کی جنت کا اس حدیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر آیا ہے جو میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں سنائی تھی۔کیونکہ جس معاشرہ میں غیبت نہ ہو۔جس معاشرہ میں فخر و مباہات نہ کیا جائے۔جس معاشرہ میں کوئی شخص بھی اپنے بھائی سے تکبر کے ساتھ پیش نہ آئے اس میں عجب اور خود پسندی کا مظاہرہ نہ ہو کوئی ایک دوسرے پر حسد نہ کر رہا ہو۔بلکہ سارے ہی ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوں جس معاشرہ میں خدا تعالیٰ کی عبادت ریاء کے طور پر نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ ہو یعنی ہر ایک شخص مخلصانہ دل کے ساتھ اپنے رب کو یاد کر رہا ہو۔تمام لوگ اپنے تمام اعمال محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر بجا لاتے ہوں۔تو ایسا معاشرہ یقیناً جنت کا معاشرہ ہے۔جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو دکھ دینے کا باعث نہیں بنتا۔ہر شخص کو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کا سکون حاصل ہوتا ہے۔خوف کے علاوہ دوسری چیز جس کا ایک مومن بندے کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔مایوسی کا نہ ہونا ہے ایک مومن بندے کو اپنے رب پر کامل یقین ہونا چاہیے اور اس کا دل اس امید سے بھرا رہنا چاہیے کہ وہ ہماری خطاؤں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ دے گا اور وہ محض احسان کے طور پر اور اپنی رحمانیت کی صفت کے ماتحت ہم سے سلوک کرے گا اور ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا یہ مومن بندہ کی دوسری شان ہے اور مومن بندہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّه هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَ اَنبُوا إِلى رَبَّكُمْ وَ أَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ۔(الزمر: ۵۵،۵۴)