خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 109
خطبات ناصر جلد اول 109 خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء صرف انسان کے ظاہری اعمال کو دیکھتے ہو اور انہیں لکھ لیتے ہو۔وَأَنَا الرَّقِيبُ عَلَى قَلْبِہ اور میں اپنے بندہ کے دل کو دیکھتا ہوں۔إِنَّهُ لَمْ يُرِدْنِي لِهَذَا الْعَمَلِ اس بندہ نے یہ اعمال بجالا کر میری رضا نہیں چاہی تھی، بلکہ اس کی نیت اور ارادہ کچھ اور ہی تھا۔آراد به غیرِی وہ میرے علاوہ کسی اور کو خوش کرنا چاہتا تھا فَعَلَيْهِ لَعْنَتی اس پر میری لعنت ہے۔فَتَقُولُ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهم تو تمام فرشتے پکار اٹھیں گے عَلَيْهِ لَعْنَتُكَ وَلَعْنَتُنَا اے ہمارے رب اس پر تیری بھی لعنت ہے اور ہماری بھی لعنت ہے فَتَلْعَنُهُ السَّمواتُ السَّبْعُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ اور اس پر ساتوں آسمان اور ان میں رہنے والی ساری مخلوق اس پر لعنت کرنی شروع کر دے گی۔حضرت معاذ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو سنا تو آپ کا دل کانپ اُٹھا آپ نے فرمایا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ لِي بِالنَّجَاةِ وَالْخُلُوص یا رسول اللہ ! اگر ہمارے اعمال کا یہ حال ہے تو مجھے نجات کیسے حاصل ہو گی ؟ اور میں اپنے رب کے قہر اور غضب سے کیسے نجات پاؤں گا؟ آپ نے فرما یا اقتد بی تم میری سنت پر عمل کرو۔وَعَلَيْكَ بِالْيَقِينِ وَ إِنْ كَانَ فِي عَمَلِكَ تَقْصِير اور اس بات پر یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کا ایک بندہ خواہ کتنے ہی اچھے عمل کیوں نہ کر رہا ہو اس میں ضرور بعض خامیاں رہ جاتی ہیں اس لئے تم اپنے اعمال پر ناز نہ کرو، بلکہ یہ یقین رکھو کہ ہمارا خدا اور ہمارا مولیٰ ایسا ہے کہ وہ ان خامیوں کے باوجود بھی اپنے بندوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔وَحَافِظ عَلى لِسَانِكَ اور دیکھو اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اس سے کسی کو دکھ نہ کو پہنچاؤ۔کوئی بری بات اس سے نہ نکالو۔وَلَا تُزَكِ نَفْسَكَ عَلَيْهِمْ اور اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ متقی اور پرہیز گار نہ سمجھو اور نہ اپنی پر ہیز گاری کا اعلان کرو۔وَ لَا تُدْخِلُ عَمَل الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ اور جو عمل تم خدا تعالیٰ کی رضا اور اُخروی زندگی میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اس میں دنیا کی آمیزش نہ کرو۔وَلا تُمَزِّقِ النَّاسَ فَيُمَزِّقُكَ كِلَابُ النَّارِ اور لوگوں میں فتنہ وفساد پیدا کرنے اور انہیں پھاڑنے کی کوشش نہ کرو اگر تم ایسا کرو گے تو قیامت کے دن جہنم کے کتے تمہیں پھاڑ دیں گے۔وَلَا تُراءِ بِعَمَلِكَ النَّاسَ اور اپنے عمل ریاء کے طور پر دنیا کے سامنے پیش نہ کیا کرو۔