خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 107

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء حسد کا فرشتہ ہوں اور میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو حسد کرنے کی عادت ہو۔اس کے اعمال پانچویں آسمان کے دروازہ میں سے نہ گزرنے دوں۔یہ شخص ہر علم حاصل کرنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے پر حسد کیا کرتا تھا۔میں اس کے اعمال کو اس دروازہ میں سے نہیں گزرنے دوں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِن حَفِظَهٔ فرشتوں کا ایک چھٹا گروہ ایک اور بندہ کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوا اور پہلے پانچ دروازوں میں سے گزرتا ہوا چھٹے آسمان تک پہنچ گیا۔یہ اعمال ایسے تھے جن میں روزہ بھی تھا، نماز بھی تھی ، زکوۃ بھی تھی ، حج اور عمرہ بھی تھے اور فرشتوں نے یہ سمجھا کہ یہ سارے اعمال خدا تعالیٰ کے حضور میں بڑے مقبول ہونے والے ہیں۔لیکن جب وہ چھٹے آسمان پر پہنچے تو وہاں کے دربان فرشتے نے کہا ٹھہر جاؤ۔آگے مت جاؤ۔إِنَّهُ كَانَ لَا يَرْحَمُ إِنْسَانَا مِنْ عِبَادِ اللهِ قَط شخص خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی بندہ پر کبھی رحم نہیں کرتا تھا اور خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ جن اعمال میں بے رحمی کی آمیزش ہو، میں انہیں اس دروازہ سے نہ گزرنے دوں۔تم واپس لوٹو اور ان اعمال کو اس شخص کے منہ پر یہ کہہ کر مارو کہ تمہارا اپنی زندگی میں یہ طریق ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے بندوں پر رحم کرنے کی بجائے ظلم کرتے ہو۔خدا تعالیٰ تم پر رحم کرتے ہوئے تمہارے یہ اعمال کیسے قبول کرے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کچھ اور فرشتے ایک بندے کے اعمال لے کر آسمان کے بعد آسمان اور دروازہ کے بعد دروازہ سے گزرتے ہوئے ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ان اعمال میں نماز بھی تھی ، روزے بھی تھے ، فقہ اور اجتہاد بھی تھا اور ورع بھی تھا لَهَادَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ وَضَوْءُ كَضَوْءِ الشَّمْسِ ان اعمال سے شہد کی مکھیوں کی آواز ایسی آواز آتی تھی یعنی وہ فرشتے گنگنا رہے تھے کہ ہم بڑی اچھی چیزیں خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے لے جارہے ہیں اور وہ اعمال سورج کی روشنی کی طرح چمک رہے تھے ان کے ساتھ تین ہزار فرشتے تھے گویا وہ اعمال اتنے زیادہ اور بھاری تھے کہ تین ہزار فرشتے ان کے خوان کو اُٹھائے ہوئے تھے۔جب وہ ساتویں آسمان کے دروازہ پر پہنچے تو دربان فرشتہ نے جو وہاں مقرر تھا کہا ٹھہرو، تم آگے نہیں