خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 94 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 94

خطبات ناصر جلد اول ۹۴ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء اور نہ جمعہ کی نماز میں شریک ہو سکتا اور نماز با جماعت اور نماز جمعہ فرائض میں سے ہیں اور انہیں اعتکاف پر جو ایک نفلی عبادت ہے بڑی فوقیت حاصل ہے۔صرف ان عبادات کو بجالا نے کے لئے اعتکاف کے لئے مسجد کو منتخب کیا گیا ہے اور آپ محض دعا کی درخواست کرنے اور تھوڑی سی مٹھائی دینے کی خاطر معتکف بھائیوں کو ناجائز طور پر تنگ کرتے ہیں۔معتکفین کی عبادت اور ان کی دعاؤں میں خلل انداز ہونا ثواب کا کام نہیں اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے اگر ضروری طور پر دعا کی درخواست کرنا ہی ہے تو اجتماعی طور پر دعا کی درخواست کر دی جائے یا اعتکاف بیٹھنے سے پہلے دعا کی درخواست کر دی جائے یا اس کام کے لئے کوئی ایسا وقت تلاش کیا جائے جس میں ان کی عبادت اور دعا میں خلل واقع نہ ہو۔گو مجھے ان دنوں میں کوئی وقت ایسا نظر نہیں آتا جو دعا اور عبادت سے خالی ہو۔دعا کا دروازہ آپ سب کے لئے کھلا ہے جہاں ان دنوں میں معتکف بھائی دعا کرتے ہیں آپ بھی دعا کر سکتے ہیں پھر دعا اور صدقہ خیرات کے اور کئی مواقع ہیں۔ان سے فائدہ اُٹھایا جائے۔معتکف کو اس کے حال پر چھوڑ دیں بعض چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نظر نہیں آتیں اور جنہیں نہ آپ نے پسند فرمایا ہے اور نہ اصولی طور پر ہماری طبیعت ہی انہیں پسند کرتی ہے ان سے بچنا چاہیے معتکف کو مسجد میں صرف اس لئے بٹھا یا گیا ہے کہ اس کی نماز جمعہ ضائع نہ ہو اور وہ نماز باجماعت ادا کر سکے اس لئے نہیں کہ جو چاہے اور جب چاہے اس کی کوٹھڑی میں چلا جائے اور اس کی عبادت میں مخل ہو مساجد سے اعتکاف کی عبادت کو لازم کرنے سے اجتماعی دعا اور عبادت کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عباس سے ایک دوست نے سوال کیا کہ ایک شخص سارا دن عبادت اور روزہ میں گزارتا ہے رات کو بھی وہ ذکر الہی اور نوافل پڑھنے میں خرچ کرتا ہے لیکن وہ نماز باجماعت سے غافل ہے اور جمعہ کی نماز میں بھی نہیں آتا اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے حضرت ابن عباس نے نہایت آرام سے جواب دیا هُوَ فِي النَّارِ و شخص آگ میں جائے گا۔پس ہمیں فرائض کی طرف بہر حال پہلے متوجہ ہونا چاہیے اور نوافل تو ایک زائد عبادت ہے جس کا بجالا نا بہت سی برکتوں کا موجب تو ضرور ہے اور فرائض کی