خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 979 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 979

خطبات ناصر جلد اول ۹۷۹ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۶۷ء اور عمل غیر صالح ( جسے عربی زبان میں طالح بھی کہا جاتا ہے ) کے درمیان فرق کر کے دکھا دیتی ہے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قدر عظیم کتاب کو ہم نے رمضان کے مہینے میں نازل کرنا شروع کیا تھا شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ اور اسے (سارے کے سارے کو ) اپنے اپنے وقت پر رمضان کے مہینے میں نازل کرتے رہے ہیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نزول فرماتے اور میرے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے۔اس رمضان میں جتنا حصہ قرآن کریم کا نازل ہو چکا ہوتا اس کا دور نزول کے ذریعے جبرائیل علیہ السلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ایک دفعہ پھر دوسری دفعہ پھر تیسری دفعہ نزول ہوتا رہتا تھا اور آخری سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام نے میرے ساتھ دو دفعہ قرآن کریم کا دور کیا ہے۔غرض اتنی عظیم کتاب کا اس مہینے میں بار بارنزول ہونا اور پھر اسی مہینہ میں نزول ہونا بتا تا ہے کہ یہ ماہ بھی بہت سی برکتیں اپنے اندر رکھتا ہے پس فرمایا کہ یہ مہینہ وہ ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم کے احکام بھی پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ اس کا قرآن کریم کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور جو قرآنی برکتیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہیں جن کا اختصار کے ساتھ ابھی میں نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تم ان برکتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو رمضان کی عبادتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ۔رمضان میں انسان رمضان کی عبادات یعنی روزہ ، وہ نوافل جو کثرت سے پڑھے جاتے ہیں اور وہ دینی مشاغل جن میں انسان مصروف رہتا ہے مثلاً سخاوت ہے کمزور بھائیوں کا خیال رکھنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں اس طرف خاص توجہ فرماتے تھے۔غرض وہ تمام عبادات جن کا تعلق رمضان سے ہے اگر تم بجالاؤ گے تو تین باتیں تمہیں حاصل ہو جائیں گی تین برکتوں کے تم وارث ہو گے اور وہ تین برکتیں یہ ہیں کہ تمہیں ہدایت ملے گی۔ہدایت تمہارے دلوں میں بشاشت پیدا کرے گی اور یہ شوق پیدا کرے گی کہ ہدایت کے اس مقام پر ٹھہر نا تو ٹھیک نہیں جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ استعداد دی ہے کہ ہم ہدایت کی سیڑھیوں پر درجہ بدرجہ بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں تو پھر ہمیں آگے چلنا چاہیے اور مزید رفعتوں کو حاصل کرنا چاہیے۔