خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 961 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 961

خطبات ناصر جلد اول ۹۶۱ خطبہ جمعہ ۳/نومبر ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں اس کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالوں گا خطبه جمعه فرموده ۳ / نومبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت اسلام کسمپرسی کی حالت میں تھا اور دنیائے اسلام، اسلام کی ضرورت، اسلام کے نام پر اور غلبہ اسلام کے لئے اپنے اموال قربان کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نشاۃ ثانیہ کے سامان پیدا کئے اور آپ کو مخلصین کی ایک جماعت دی گئی جو اپنے نفوس اور اپنے مال کی قربانی خدا کی راہ میں دینے والی تھی اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے قربانیاں لیتا ہے تو اس دنیا میں بھی اپنے فضلوں کا انہیں وارث بناتا ہے چنانچہ جب اس زمانہ میں نشاۃ ثانیہ کی ابتدا میں مخلصین کی ایک جماعت پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے وقتوں اور اپنی زندگیوں اور اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک وعدہ کیا اور وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ( جماعت کے متعلق ) کہ میں ان کے نفوس اور ان کے اموال میں برکت ڈالوں گا۔آؤ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کس رنگ اور کس شان کے ساتھ پورا ہوا میں اس وقت جماعت احمدیہ کی تاریخ کے پچھتر سالوں پر طائرانہ نگاہ ڈالوں گا۔یہ ۱۹۶۷ ء ہے اس میں سے چھتر ہم نکال دیں تو