خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 959
خطبات ناصر جلد اول ۹۵۹ خطبہ جمعہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۷ء درست اور معقول ہو گا؟ کیا آپ اسے پسند کریں گے؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی صورت میں بھی اس چیز کو پسند کریں۔پس میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں بڑے درد کے ساتھ اور بڑے زور کے ساتھ یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں ہم پہ اس رنگ میں نازل کیں کہ ہماری قربانیوں کو قبول کیا آسمان سے فرشتوں کو نازل کیا دلوں سے عیسائیت کو مٹادیا اور ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ اگر ہم اپنی کوششوں کو اور اپنے عملوں کو اور اپنی محنتوں کو اور اپنی تدابیر کو اور اپنی جد و جہد کو اور مجاہدہ کو تیز سے تیز تر کر دیں تو خدا ایسا کر سکتا ہے اور ہر ایک کے دل میں یہ خواہش ہے کہ خدا ایسا کرے کہ ہم زندگیوں میں اسلام کو ساری دنیا میں غالب ہوتا دیکھ لیں۔پس قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس دن خرید و فروخت بھی فائدہ نہیں دیتی کسی دوست کی دوستی فائدہ نہیں پہنچاتی کوئی شفاعت کرنے والا پاس نہیں آتا۔ایسے آدمی کے پاس نہیں آتا جس نے اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس سے یہ وعدہ کیا ہو کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے لیکن جب دین کی آواز اُٹھے تو وہ کہے کہ دنیا کے دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں دین کی ضرورتوں کو کیسے پورا کریں۔ایسے لوگوں کو اس دن نہ کوئی سودا نفع دے سکتا ہے نہ کوئی دوستی نفع پہنچا سکتی ہے نہ کوئی شفاعت کرنے والا انہیں میسر آ سکتا ہے۔جیسا کہ بڑی وضاحت سے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔اس دن سے قبل اپنے رب کی رضاء کو ڈھونڈتے ہوئے اور اس کو پانے کے لئے ان قربانیوں کو اس کے قدموں پہ جا کر لا رکھو کہ جن کا وہ آج مطالبہ کر رہا ہے۔جن کا مطالبہ آج وقت کی ضرورت کر رہی ہے۔جن کا مطالبہ آج یورپین اور دوسری دنیا کی اقوام کے حالات کر رہے ہیں اگلے پچیس تیس سال کے اندر ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ان دلوں کو جن میں مسیح علیہ السلام کی محبت ختم ہو چکی ہے اپنے رب کے لئے جیت لیں اور پھر خدا کرے کہ ہمارے سکھانے سےاور بتانے سے انہیں اللہ تعالیٰ کا عرفان اور معرفت حاصل ہو اور ان دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے۔تب خدا ہمیں بڑے پیار سے یہ کہے کہ یہ میرے پیارے بندے ہیں جنہوں نے دنیا