خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 958 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 958

خطبات ناصر جلد اول ۹۵۸ خطبہ جمعہ ۱٫۲۷ اکتوبر ۱۹۶۷ء اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک تغیر اور ایک تبدیلی پیدا کرے کہ وہ ہمیں کہنے لگیں کہ آؤ ہمیں اسلام سکھاؤ اور ہم کہیں کہ ہمارے پاس تو آدمی نہیں ہمارے پاس تو پیسہ نہیں ہمارے پاس تو ذرائع نہیں کہ ہم تم تک پہنچیں اور تمہیں اسلام سکھائیں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ساری عمر کام کرتے رہے اور جب پھل لگنے کا وقت آیا تو تھک کے بیٹھ گئے کہ ہم میں اب سکت نہیں کہ اپنی محبت کا پھل جو محض اللہ کے فضل سے ہمیں ملنے والا ہے ہم اسے توڑیں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ پچیس تیس سال جہاں ان اقوام کے لئے بڑے نازک ہیں ہمارے لئے بھی یہ سال بڑے نازک ہیں۔یہ زمانہ ہمارے لئے انتہائی نازک ہے اس لئے کہ اس زمانہ میں ہماری ترقی کے بہت سے دروازے کھل رہے ہیں اور کھلیں گے انشاء اللہ۔اگر ہم اپنی غفلت اور سستی کے نتیجہ میں ان دروازوں میں داخل نہ ہوں تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہم حاصل کریں اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد ہم بن سکتے ہیں۔پس خوف کا مقام ہے ہمیں سوچنا چاہیے ہمیں ڈرنا چاہیے بدنتائج سے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے ہمیں ان فضلوں کو دیکھنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ ہم پر کر رہا ہے اور اس فضل کے نتیجہ میں ہماری ترقیات کے نئے سے نئے دروازے اور نئی سے نئی راہیں ہم پر کھول رہا ہے اور اگر ہم یہ کہیں کہ اب ہم سے آگے نہیں بڑھا جا تا تو یا درکھو کہ اسلام کے فدائی آگے تو ضرور بڑھیں گے مگر وہ کوئی اور قوم ہوگی جسے اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا اور وہ ان راہوں پر ان کو چلائے گا مگر میں پوچھتا ہوں آپ کیوں نہیں ؟؟؟ آپ نے جن میں سے بعض نے بس سال تک ان میدانوں میں قربانیاں دیں۔جن میں سے بعض نے تئیس سال تک ان میدانوں میں قربانیاں دی ہیں۔اب جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کی قربانیوں کو قبول کر کے غیر ممالک میں غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو یہ آواز دیتے ہیں کہ آؤ آگے بڑھو غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دئے گئے ہیں مزید قربانیاں دو تا کہ اسلام کی فتح تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور آپ یہ کہیں کہ ہم تھک گئے ہیں اب یہ فتوحات ہماری اگلی نسلیں دیکھ لیں ہم نہیں دیکھنا چاہتے کیا یہ جذبہ