خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 957
خطبات ناصر جلد اول ۹۵۷ خطبہ جمعہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۷ء امداد ملتی ہے وہ ہمارے بجٹ میں شامل ہو جاتی ہے کل چونکہ دفاتر میں چھٹی تھی تفصیل میں حاصل نہیں کر سکا اس چیز کو بے شک مد نظر رکھیں لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ بیرونِ پاکستان کی آمد ہمارے دلوں میں تشویش پیدا کرنے والی ہے اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا قدم اس تیزی سے آگے نہیں بڑھا جس تیزی سے ہمارا قدم آگے بڑھنا چاہیے تھا اور اس کے نتیجہ میں ہم اللہ تعالیٰ کے بہت سے ان انعامات سے محروم ہو گئے جو اللہ تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا تھا۔بیرونی ممالک کا نقشہ یہ ہے ۱۹۵۳ء میں تحریک جدید کی آمد ۴,۲۰,۰۰۰ تھی اس میں سکولوں کو جو امدا دملی شامل ہے۔۱۹۶۰ء میں بیرونی ممالک کی آمد ۶۳,۰۰۰, ۱۳ ہے یعنی چار سال میں ۴,۲۰,۰۰۰ سے بڑھ کر ۱۳,۶۳,۰۰۰ روپیہ ہوگئی اور ۶۸۔۱۹۶۷ء میں جو سال رواں ہے اس میں بیرونی ممالک کی اصل آمد دفتر بند ہونے کی وجہ سے مل نہیں سکی لیکن جو بجٹ ہے وہ تیس لاکھ بہتر ہزار روپے کا ( ۳۰,۷۲,۰۰۰ روپیہ ( یعنی ۱۳,۶۳,۰۰۰ ۱۹۶۰ء کے بجٹ اور آمد کے مقابلہ میں ۱۹۶۷ ء میں بیرونی ممالک کا بجٹ ۳۰,۰۰,۰۰۰ ( تیس لاکھ ) ہو گیا ہے اور ۱۹۵۳ء میں جو بجٹ صرف ۴,۲۰,۰۰۰ کا تھا۔۱۹۶۷ ء میں وہ بجٹ ۳۰,۰۰,۰۰۰ روپیہ کا ہو گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چودہ سالوں میں قریباً ساڑھے سات گنا یعنی قریباً ساڑھے سات سو فی صد ترقی انہوں نے کی ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر سال رواں کا بجٹ ہم سامنے رکھیں تو ہماری ترقی صرف چالیس فی صدی ہے۔ہماری یہ ترقی دگنی بھی نہیں ہے اس کے مقابلہ میں بیرونی ممالک کے بجٹ سے جو اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا فضل کیا ہے کہ ان کی قربانیوں کا مجموعی طور پر جو نقشہ ہمارے سامنے آتا ہے وہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۶۷ ء کے درمیانی چودہ سال میں ساڑھے سات گنا زیادہ ،ساڑھے سات سو فیصدی بڑھ گیا ہے تو جس رفتار سے وہ آگے نکل رہے ہیں اور جس سست رفتار سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں جب ان کا ہم مقابلہ کرتے ہیں تو میرے دل میں تشویش پیدا ہوتی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر مخلص دل میں تشویش پیدا ہوگی۔ہماری مالی قربانیاں اپنی جگہ پر کھڑی ہیں جو قربانیاں ہم اس وقت تک دے چکے ہیں اگر