خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 952 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 952

خطبات ناصر جلد اول ۹۵۲ خطبہ جمعہ ۲۷/اکتوبر ۱۹۶۷ء برائے فروخت کے چوکھٹے لگے ہوئے ہیں اور بہت سے گر جا وہاں بک چکے ہیں جہاں شراب خانے بنا دیئے گئے ہیں بہت سے گر جا وہاں بک چکے ہیں جہاں چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں قائم ہوگئی ہیں یا کوئی اور کاروبار شروع ہو گیا ہے۔گر جاؤں کی فروخت اور گر جاؤں کا قابل فروخت ہونا بتاتا ہے کہ آپ کے ملک میں رہنے والے مذہب کی طرف پہلے کی نسبت بہت کم توجہ دے رہے ہیں اس پر اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر گر جا کو مسجد بنا لیا جائے تو اس میں کوئی ہرج تو نہ ہوگا میں نے اسے جواب دیا کہ جہاں تک مسئلے کا سوال ہے میں اس میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا کہ کسی گرجا کو مسجد بنالیا جائے لیکن میں اپنی جماعت کے لئے اسے پسند نہیں کرتا اس لئے کہ ایسا کرنے کے نتیجہ میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں پیسے دے گا اور ہم آپ کے ملک میں مساجد خود تعمیر کریں گے ستے گرجے خرید کے انہیں مسجدوں میں تعمیر نہیں کریں گے اور بھی بہت سی باتیں مشاہدہ میں آئیں جن سے میں نے نتیجہ نکالا کہ یورپ کی عیسائی دنیا عیسائیت سے نہ صرف بے تعلق ہو چکی ہے بلکہ متنفر بھی ہو چکی ہے اور اس حد تک وہ گندگی میں مبتلا ہو چکی ہے کہ خود حضرت مسیح ناصری علیہ السلام پر بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ اس قسم کے ظالمانہ الزام لگا رہی ہے کہ جن کا زبان پر لانا بھی ہمارے لئے مشکل ہے کیونکہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں لیکن اب وہ جس گندگی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہاں تک کہ ان کے پادریوں نے بھی علی الاعلان یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی (نعوذ باللہ ) اسی گندگی میں مبتلا تھے اور گندے اخلاق ان میں پائے جاتے تھے۔پس وہ تختی محبت کی جو ان کے دلوں میں صدیوں سے قائم کی گئی اور قائم رکھی گئی تھی اور اس محبت کو اس انتہاء تک پہنچا دیا گیا تھا کہ ان کے ماننے والے انہیں خدا، خدا کا بیٹا ماننے لگ گئے تھے وہ تختی تو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے صاف کر دی اور یہ تو میں عیسائیت کو عملاً بھی اور عقید تا کبھی چھوڑ چکی ہیں صرف ایک نام باقی رہ گیا ہے اب تو شاید وہ نام سے بھی انکار کرنا شروع کر دیں۔ان حالات میں میں نے سوچا کہ جماعت احمدیہ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے