خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 951 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 951

خطبات ناصر جلد اول ۹۵۱ خطبہ جمعہ ۲۷/اکتوبر ۱۹۶۷ء اللہ تعالی محض اپنے فضل سے بیرونی ممالک میں غلبہ اسلام کی نئی نئی راہیں کھول رہا ہے خطبه جمعه فرموده ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرنا چاہتا ہوں یہ آنے والا سال تحریک جدید کا چونتیسواں سال ہوگا۔دفتر اول کے لحاظ سے اور چوبیسواں سال ہوگا دفتر دوم کے لحاظ سے اور تیسرا سال ہوگا دفتر سوم کے لحاظ سے۔میں نے اپنے سفر کے دوران جہاں یہ مشاہدہ کیا کہ یورپ میں بسنے والی اقوام عیسائیت سے، مذہب سے بے تعلق ہورہی ہیں وہاں میں نے اس ضرورت کا بھی بڑی شدت کے ساتھ احساس کیا کہ یہ وقت انتہائی قربانیاں دے کر اپنے کام میں وسعت پیدا کرنے اور اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کرنے کا ہے۔عیسائیت سے ان کی بے تعلقی اس بات سے عیاں ہے کہ گلاسگو میں جب ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے ہمارے ملک میں بسنے والوں کو مذہبی لحاظ سے کیسے پایا تو میں نے اسے جواب دیا کہ یہاں کے باشندے عیسائیت میں اب دلچسپی نہیں لے رہے اس پر اس نے سوال کیا کہ آپ نے کس چیز سے یہ استدلال کیا ہے میں اس کے بہت سے جواب دے سکتا تھا لیکن میں وہاں مختصراً جواب دینا چاہتا تھا میں نے انہیں کہا کہ میں نے جس چیز سے استدلال کیا ہے وہ یہ ہے کہ لنڈن میں بہت سے گر جاؤں کے سامنے