خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 930 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 930

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۳۰ خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۶۷ء محسوس ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ جو مومن ہوتا ہے اسی کو ذکر فائدہ پہنچا تا ہے جو مومن نہیں ہوتا اس کو ذکر اور یاد دہانی فائدہ نہیں پہنچاتی۔غرض ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ذکر یاد دہانی کراتے چلے جایا کرو دوسری طرف ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا کہ ہمارا ذکر کہنا مومنوں کے ایمان کی کمزوری کا اعلان نہیں ہے بلکہ ان کے ایمان کی پختگی کا اعلان ہے کیونکہ مومن ہی یاد دہانی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں جو ایمان کے کمزور اور منافق ہیں ان کو جتنی مرضی ہو آپ یاد دہانیاں کراتے چلے جائیں ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔غرض فضل عمر فاؤنڈیشن کے نظام کو ، اس کے کارکنوں کو ذکر کے حکم کے ماتحت وصولی کی طرف پوری توجہ دینی چاہیے اور میں جماعت سے یہ توقع اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہیں اور وہ دنیا کو یہ کہنے کا موقع نہیں دیں گے کہ دعویٰ محبت کا تھا مگر عمل اس کے مطابق نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی ہے کہ اول تو ہمارے زبانی دعوے ہوتے ہی نہیں لیکن اگر ہمیں کوئی دعویٰ کرنا بھی پڑے تو عمل کے مقابلہ میں بڑے چھوٹے دعوے ہوتے ہیں کیونکہ ہم اپنے مقام انکسار اور تواضع کو پہچانتے ہیں اور یہ یقین ہر احمدی کے دل میں ہے کہ جو کچھ تو فیق اسے ملتی ہے وہ اس کے رب کی طرف سے ہی ملتی ہے اور وہ جب کوئی قربانی دے رہا ہو تو دو ہرے شکر کے جذبات اس کے دل میں ہوتے ہیں ایک اس لئے کہ اس نے مالی یا جانی یا وقتی یا جذباتی قربانی یا عزت کی قربانی خدا کی راہ میں دی اور دوسرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر بڑا ہی احسان کیا ہے که قربانی دینے کی اسے تو فیق عطا کی۔پس جس طرح میرے دل میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہے کہ دوسرے سال کی معینہ رقوم وصول ہوں گی یا نہ ہوں گی بلکہ مجھے یقین ہے کہ جو معینہ رقم ہے دوسرے سال کی۔اس سے زیادہ انشاء اللہ ہمیں وصول ہوگا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے کارکنوں کو بھی کوئی گھبراہٹ تو نہ ہونی چاہیے لیکن میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے نظام کو یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اب وعدوں کے حاصل کرنے کی بجائے رقوم کی وصولی کی طرف زیادہ توجہ دیں کیونکہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس فنڈ کی رقم یعنی جو سر مایہ ہے اس کو خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ جن مقاصد کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام کیا گیا ہے ان کو پورا کرنے کے لئے جس روپیہ کی ہمیں ضرورت