خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 928
خطبات ناصر جلد اول ۹۲۸ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۶۷ء پچھلے سال برسر روزگار نہیں ہوئے تھے۔وہ اگر اس سال برسر روزگار ہو گئے ہیں۔تو ان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی کہ ہمیں بھی اس فنڈ میں حصہ لینا چاہیے تو اس قسم کی رقمیں تو وعدوں کی شکل میں بھی ادائیگی کی صورت میں بھی آتی رہیں گی لیکن جہاں تک بحیثیت مجموعی جماعت کا تعلق ہے اندرون پاکستان کے وعدوں کی جو کوشش ہے وہ اب ختم ہو گئی ہے اور اب وصولی کی طرف ہمیں زیادہ توجہ دینی پڑے گی۔بیرون پاکستان میں بھی ہماری مخلص جماعتیں ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ پھیلی ہوئی ہیں اور بعض جگہ چندوں کی وصولی کا طریق بھی ہم سے مختلف ہے مثلاً افریقہ کے بعض ممالک میں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر مختلف قبائل کے احمدی مختلف گروہوں میں بیٹھتے ہیں اور مالی قربانی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلاً اگر ایک قبیلہ نے ۵۰۰ پونڈ کی رقم کا وعد ہ لکھوایا یا ادائیگی کی اور دوسرے نے ۶۰۰ پونڈ کا وعدہ لکھوایا، ادا ئیگی کر دی۔تو پہلے قبیلہ کا سردار کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔ہماری طرف سے یہ سات سو پاؤنڈ کی رقم وصول کر لیں۔یہ ان کا طریق ہے۔اسی طرح وہ اپنے اپنے چندوں کی رقوم کو شائد شرح سے بھی زیادہ ادا کر دیتے ہیں لیکن اس وقت تک ایک حد تک ( سارے تو نہیں بعض با شرح چندہ دینے والے بھی ہیں) ان پڑھ قبائل جو نئے نئے اسلام لائے یا اسلام کی تعلیم کو انہوں نے حاصل کیا۔وہ اس طرح بھی ایک قربانی کی روح کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو غیرت دلاتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ان لوگوں کو وعدہ لکھوانے کی اتنی عادت نہیں جتنی نقد ادائیگیوں کی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ بیرون پاکستان میں وعدے اتنے نہیں ہوئے جتنا میرا اندازہ تھا لیکن خدا اگر چاہے ( ہمیں دعا کرنی چاہیے ) اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید بھی رکھتے ہیں تو تین سال گذرنے پر بیرون پاکستان کی آمد پندرہ لاکھ سے زائد ہو جائے گی۔اس وقت تک بیرون پاکستان کے جو وعدے ہیں وہ آٹھ لاکھ اسی ہزار کے ہیں (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) اور جو ان کی وصولی ہے وہ دو لاکھ باسٹھ ہزار کی ہے یعنی ایک تہائی سے کچھ کم ان کی وصولی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض ممالک ( مثلاً مغربی افریقہ کے بعض ممالک )