خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 927 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 927

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۲۷ خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۶۷ء ہمارے دل میں پیدا کی تھی کہ اس فنڈ کی رقم ۲۵ لاکھ روپے سے کہیں زیادہ ہو جائے گی اس خواہش کو اس نے محض اپنی رحمت سے پورا کر دیا اس وقت تک فضل عمر فاؤنڈیشن کے اندرون پاکستان کے وعدے ۲۷ لاکھ ستر ہزار روپیہ تک پہنچ چکے ہیں اس کے علاوہ بیرون پاکستان کے وعدے ۸ لاکھ ۸۰ ہزار روپے کے ہیں۔اس طرح کل وعدہ جات ۳۶ لاکھ ۵۰ ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں۔یعنی ۲۵ لاکھ سے گیارہ لاکھ ۵۰ ہزار روپے زائد۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - بعض دوستوں کے مشورہ سے اور دعا اور فکر کرنے کے بعد میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ان وعدوں کی وصولی تین سال پر پھیلی ہوئی ہوگی دوست ہر سال ایک تہائی اپنے وعدوں کا ادا کریں اس لحاظ سے جون کے آخر تک بارہ لاکھ اور میں ہزار کچھ سو کی رقم وصول ہونی چاہیے تھی لیکن اس کے مقابلہ میں جو رقم وصول ہوئی ہے وہ تیرہ لاکھ اٹھا سٹھ ہزار کی ہے۔یعنی ایک تہائی سے زیادہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔میں نے بعض نقار یر میں یہ بھی کہا تھا کہ بعض دوست جو دنیا کی نگاہ میں غریب ہیں لیکن ان کے دلوں میں بڑا جذ بہ ہے۔وہ غربت کے باوجود کچھ رقمیں فضل عمر فاؤنڈیشن میں لکھوائیں گے اور تین سال کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ کسی نے دس روپے کی رقم لکھوائی کسی نے پچاس اور کسی نے سوا اور وہ یہ کہے گا کہ میں رقم فوری طور پر ادا کر دوں تاکہ میرے دماغ میں سے یہ بوجھ اتر جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوں اور مجھے اپنے وعدہ کو پورا کرنا چاہیے۔اس لئے پہلے سال میں جیسا کہ میرا اندازہ تھا ایک تہائی سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے زائد جمع ہو گئے ہیں ان میں بہت سی ایسی رقوم بھی شامل ہیں کہ بعض مخلص جذبہ رکھنے والے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں سرشار دل وعدہ لکھوانے پر اپنی غربت کے باوجود مجبور ہوئے اور پھر ادا ئیگی بھی انہوں نے جلدی کر دی۔اس کے علاوہ کچھ اور دوست بھی ہو سکتے ہیں کہ باوجود نسبتاً زیادہ مالدار ہونے کے ان کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ ایک تہائی سے زیادہ رقم ادا کر دیں۔جہاں تک وعدوں کا تعلق ہے ہمارا کام قریباً ختم ہو گیا ہے قریباً میں اس لئے کہتا ہوں کہ تھوڑے بہت لوگ تو اندرون ملک میں بھی نئے وعدے لکھوائیں گے مثلاً جو احمدی دوست