خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 921 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 921

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۲۱ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۶۷ء کے عظیم روحانی فرزند کا اور بڑی قربانی ہے جماعت کی ، جو اس موقع پر بھی وہ پیش کرتی ہے یہ تو درست ہے کہ ہماری جماعت میں بعض امیر بھی ہیں جن پر جلسہ میں شمولیت کی وجہ سے کوئی مالی بار نہیں پڑتا نہ وہ کوئی تنگی محسوس کرتے ہیں جس طرح وہ گھروں میں خرچ کر رہے ہوتے ہیں اس موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں ان کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم پہ کوئی بار پڑا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنی برکتوں اور رحمتوں سے نوازتا ہے۔لیکن اکثریت ایسے لوگوں کی ہے کہ جو سال بھر جلسہ میں شمولیت کی تیاری کرتے رہتے ہیں پیسہ پیسہ جوڑتے ہیں بعض کھانے کے خرچ میں سے ایک حصہ بچاتے ہیں کپڑے نہیں بناتے بچوں کو ننگے پاؤں پھرنے دیتے ہیں تا کہ ان کے پاس اتنے پیسے جمع ہو جائیں کہ وہ جلسہ میں شریک ہو سکیں اگر آپ اس تفصیل میں جائیں اور آنے والوں کا تفصیلی جائزہ لیں تو حیران ہو جا ئیں آپ ان کے ایثار اور قربانی کو دیکھ کر۔کسی اور کے سامنے یہ با تیں رکھیں تو وہ مانے گا نہیں۔وہ کہے گا یونہی گپیں مار رہے ہو تم۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ پچاس ساٹھ ہزار آدمی جلسہ میں شامل ہونے کی غرض سے اس قسم کی تکالیف سارا سال برداشت کرتا رہا ہو۔پس جماعت جلسہ میں شمولیت کے لئے بڑی قربانیاں دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور بڑی رحمت کرنے والا ہے جماعت پر ان دنوں میں بھی اور بعد میں بھی ان قربانیوں کو دیکھ کے لیکن خصوصاً ان دنوں میں بڑی برکت نازل کرتا ہے۔ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔مغفرت کی چادر میں ان کو چھپا لیتا ہے۔اپنے نور کی چادر میں انہیں لپیٹ لیتا ہے جب وہ آتے ہیں تب بھی وہ مخلص احمدی ہوتے ہیں لیکن جب وہ واپس لوٹتے ہیں تو اپنے اخلاص میں پہلے سے بھی کہیں بڑھ کے ہوتے ہیں۔جلسہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نظارے دیکھتے ہیں۔ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ایک لاکھ آدمی اجتماعی دعا کر رہا ہو اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوا گر خلوص نیت ہوا گر کبر نہ ہو، اگر نخوت نہ ہو، اگر یہ خیال نہ ہو کہ ہمارا کوئی حق ہے جو ہم نے اپنے رب سے لینا ہے بلکہ نہایت عاجزی اور تواضع اور انکسار کے ساتھ دعائیں کی جائیں۔تو اتنا بڑا مجمع جب دعا