خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 916 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 916

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۱۶ خطبہ جمعہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۶۷ء ایک حصہ وہ اپنے بھائیوں کو دے تاکہ وہ اس کی خوشی میں شریک ہوں اور ایک حصہ وہ اپنے پر خرچ کرے۔چنانچہ ان کے والد صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں :۔یہ قصیدہ حفظ کرنے کے دوران میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے عزیز کو خوابوں میں سید الانبیاء حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور 66 حضور پرنور اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت کا شرف بخشا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔“ پھر وہ لکھتے ہیں :۔عزیز فرید احمد کی امی کا اور میرا خیال تھا کہ انعام دینے سے قبل بچے کو تربیت کے طور پر کسی رنگ میں کبھی ترغیب دلائیں گے کہ اس رقم میں سے کچھ چندہ دے دے اور کچھ حصہ اپنے بھائیوں اور بہن کو دے اور بقیہ رقم اپنے استعمال میں لے آئے لیکن قصیدہ حفظ کرنے سے پہلے ہی ایک دفعہ عزیز نے ہماری تحریک کے بغیر خود اپنا عندیہ یہ ظاہر کر دیا کہ وہ انعام کی ساری رقم حضور انور کی خدمت اقدس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی جاری کردہ تحر یک وقف جدید کے چندہ کے طور پر پیش کر دے گا کیونکہ حضور اقدس اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس عظیم الشان تحریک کی مالی مضبوطی کا کام اپنے بچوں کے سپر د کیا ہے۔پس عزیز کے منشا کے مطابق میں پچاس شلنگ کا چیک حضور پر نور کو بھجوا رہا ہوں۔“ اور عزیز فرید احمد اپنے خط میں لکھتا ہے :۔"Waleed, Amatul-Naseer and I were Promised by our father gifts of sh 50/- each for memorising the Qasida, and I am first to have recieved this gift, Al-Hamdulillah!!! On my part, I have undertaken to present the whole of this amount to your holiness for the purpose of Waqf-e-Jadid۔This is because you have kindly made the children of Ahmadiyyat responsible for the finance of the