خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 915
خطبات ناصر جلد اول ۹۱۵ خطبہ جمعہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۶۷ء بوجھ پڑے گا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو نباہنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔میرے دل میں یہ احساس ہے کہ جماعت نے بحیثیت مجموعی اس کی طرف وہ تو جہ نہیں دی جو اس کو دینی چاہیے۔بڑے نیک نمونے بھی ہیں ہماری جماعت میں۔ایسے بچے جن کو تحریک نہیں کی گئی اور پھر بھی ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہمارے بڑوں پہ ہی نہیں ہم پر بھی قربانیوں کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور وہ قربانیاں دیتے ہیں۔افریقہ کے ایک بچے کی مثال میں اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔افریقہ میں ہمارے ایک احمدی بھائی ہیں لئیق احمد ان کا نام ہے بڑے مخلص دعا گو ہیں اور ہر وقت ان کو یہ احساس رہتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کر رہا ہے ہمیں اپنی راہ میں قربانیاں دینے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ہمارے بچے بھی اس کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کی راہ میں قربانیاں دیں۔چند دن ہوئے انہوں نے مجھے خط لکھا جو کل ہی مجھے ملا ہے۔انہوں نے اپنے بچوں سے کہا (ایک بچہ بہت چھوٹا ہے) بڑے بچے جو ہیں ان کو انہوں نے کہا کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قصیدہ تم حفظ کر لو ( جو نعتیہ قصیدہ ہے يا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظَّمْان) تو میں تمہیں پچاس شلنگ انعام دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص اس قصیدہ کو زبانی یاد کرے اور دہراتا رہے اللہ تعالیٰ اس کا حافظہ تیز کر دیتا ہے تو بچوں کو یہ قصیدہ حفظ کروانے میں ان کا دنیوی فائدہ بھی ہے کیونکہ بچپن کی عمر حافظہ سے فائدہ اُٹھانے کی عمر ہے۔جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر ذہن سے فائدہ اٹھانے کی عمر میں وہ داخل ہو جاتے ہیں بہر حال انہوں نے اپنے بچوں کو ۵۰ شلنگ انعام کا وعدہ دے کر انہیں اس طرف متوجہ کیا اور شوق ان میں پیدا کیا اور انہوں نے یاد کرنا شروع کر دیا۔بڑے بچے نے سارا قصیدہ حفظ کر لیا تو انہوں نے اسے ۵۰ روپے انعام دیا۔وہ لکھتے ہیں کہ میری اور میری بیوی کی یہ خواہش تھی کہ ہم اسے ترغیب دیں کہ جب اسے یہ انعام ملے تو اس کا ایک حصہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے اور