خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 75

خطبات ناصر جلد اول ۷۵ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء وَاحْيِي لَيْلَهُ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں رات کو زندہ رکھتے۔اس میں ہمیں اشارہ یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی کی وہی گھڑیاں زندگی کہلانے کی مستحق ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں گزریں۔جو زندگی اس کی اطاعت میں نہ گزرے بلکہ اس سے بغاوت میں گزرے وہ تو موت سے بھی بدتر ہے۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ علماء نے اس کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں میں اس وقت تفصیل میں نہیں جا سکتا بہر حال وہ ایک رات ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے ایک ایسی گھڑی مقدر کی ہے کہ جس میں اگر کسی کو صحیح رنگ میں دعا کرنے کی توفیق مل جائے اس کی نیت بھی خالص ہوا اور محض خدا تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو اور دعا قبول بھی ہو جائے تو وہ گھڑی اتنی عظیم الشان ہے کہ خدائے تعالیٰ کی تقدیروں کو بھی بدل دیتی ہے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کی جو آخری دس راتیں ہیں ان میں اس گھڑی کی تلاش کرو۔اور اور امور سے توجہ ہٹا کر معمول سے زیادہ خدائے تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ تا خدا کے فضل سے تمہیں لیلۃ القدر کی یہ گھڑی نصیب ہو۔ایک اور نفلی عبادت جس کا تعلق رمضان سے ہے وہ صدقہ وخیرات ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بخاری میں یہ ذکر ہے کہ آپ بڑے سخی تھے اور بڑی سخاوت سے کام لیتے تھے۔دراصل جس وجود کا سارا بھروسہ اور تو کل اپنے اس رب پر ہو جس کے خزانے میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی اس کو اس بات کا فکر نہیں ہوتا کہ میرے گھر میں کوئی چیز ہے یا نہیں۔کیونکہ اس کی تمام ضروریات کا کفیل تو خود اس کا خدا ہوتا ہے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گان أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ کہ ماہ رمضان میں حضور اپنے معمول سے بھی زیادہ سخاوت برتا کرتے تھے۔پس ہمیں بھی رمضان میں صدقہ و خیرات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔فی الحقیقت یہ سبق ہمیں خودرمضان کے ذریعہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے جو بھائی بھو کے اور پیاسے ہیں ان کا ہم پر حق ہے کہ ان کی مدد کریں اور ان کی طرف توجہ کریں اور زیادہ سے زیادہ صدقہ دیں۔