خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 889
خطبات ناصر جلد اول ۸۸۹ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کیا اثر سننے والوں پر وہ مضمون کر رہا تھا ہمارے ایک احمدی ہیں ان کی ساری عمر ولایت میں ہی گزری ہے ( پارک کارنر میں جہاں بہت ٹف آدمی تقریر کر سکتا ہے، لفنگے آدمی بھی وہاں جمع ہوتے ہیں اور تمسخر اور استہزاء اور اعتراض عجیب عجیب وہاں ہوتے رہتے ہیں۔وہاں کھڑے ہو کے دلیری کے ساتھ تقریر کرنے والے ہیں) کہنے لگے کہ آپ تقریر کر رہے تھے اور مجھے پسینہ آ رہا تھا اور کہنے لگے کہ ایک انگریز میرے پاس بیٹھا تھا شروع میں حیرت سے اس کا منہ کھلا اور پھر پینتالیس منٹ تک کھلا ہی رہا ایک فقرہ کے بعد دوسر افقرہ اسی قسم کا آجاتا تھا۔اب وہ یہاں چھپ گیا ہے وہاں انگلستان والوں نے ایک دن میں رقم اکٹھی کر کے پچاس ہزار کا انتظام کر لیا تھا اس کی اشاعت کا۔اور وہ پچاس ہزار وہاں شائع ہو چکا ہے میں نے انہیں کہا تھا کہ کچھ باہر کے لئے بھیج دیں سارے ہیڈ ماسٹرز کو ، سارےM۔P۔S کو، بڑے بڑے بشپز کو اور بڑے بڑے کلا رجز کو، سارے لارڈ ز کو اور اس طرح انہوں نے ساڑھے سات ہزار پتے منتخب کر کے ان پتوں پر وہ بھجوا دیئے ہیں۔اور باقی وہ انتظام کر رہے ہیں۔پھر اس کا جرمن میں ترجمہ ہو چکا ہے پہلے تو وہ راضی نہیں تھے اور پہلے اس وقت سارا تو اخباروں نے شائع نہیں کرنا تھا اب پورا مکمل شائع ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شاید یہی حکمت ہو۔جرمنی کے گھر گھر میں پہنچانے کا میں نے ان کو پروگرام بتایا ہے اسی طرح سوئیٹزرلینڈ ،ہالینڈ سارے ملکوں میں ساری زبانوں میں ترجمہ ہو کے وہ وہاں تقسیم کیا جائے گا اور ایک دفعہ پوری طرح اتمامِ حجت کرنے والا۔بات یہ ہے کہ جس وقت میں یہاں سے گیا تو سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے جب دنیا کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ان کے دو کام ہوتے ہیں ایک بشیر کی حیثیت سے، ایک نذیر کی حیثیت سے، بہت سی انداری پیشگوئیاں دی جاتی ہیں اور جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ علی الاعلان اور بغیر ڈرے دنیا میں وہ پھیلا ئیں اور تمام دنیا پر اتمام حجت کریں کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے یہ انذاری وعید ہیں تمہارے متعلق تم تباہ ہو جاؤ گے۔اور اگر تم ان سے بچنا چاہتے ہو تو تو بہ کرو۔فقرہ تو میں یہی بولتا تھا۔رجوع Come back to your Creator جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔اس کی طرف تم رجوع کرو۔اسلام ایک حسین ترین تعلیم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم