خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 888
خطبات ناصر جلد اول ۸۸۸ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء اور ایک بڑی باوقار عورت، وقار سے بیٹھی ہوئی جب میں نے کہا ”دلوں کو فتح کر کے، تو اسی طرح وقار سے بیٹھے بیٹھے آرام سے کہنے لگی ، آپ ان دلوں کو کریں گے کیا ؟؟ ایک عورت کے منہ سے جب یہ فقرہ نکلا تو ایک سیکنڈ کے لئے میں بڑا پریشان ہوا لیکن اللہ تعالیٰ ، حسب وعدہ کہ میں تیری مدد کروں گا میری مدد کو آیا۔میں نے اسے کہا " پیدا کرنے والے کے قدموں پہ جا رکھیں گئے اس جواب سے تو سارے ہی صحافی جو تھے ان پر خاموشی طاری ہو گئی ایک آدھا منٹ کے بعد ان کو ہوش آئی۔پھر انہوں نے آگے سوال کئے۔ہر ایک پر اس کا اثر تھا مگر اس عورت پر تو اتنا اثر تھا کہ وہ پچاس میل دور سے آئی ہوئی تھی وہ وہاں ٹھہری رہی۔مغرب اور عشاء کی نماز میں ہمیں پڑھتے دیکھا پھر دوستوں سے گفتگو کرتی رہی اور وعدہ کر کے گئی تھی کہ لکھوں گی اور اس نے اس کے متعلق لکھا بھی۔وہ کسی ویکلی (ہفتہ وار ) کی نمائندہ تھی۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو چیز ہمارے حق میں تھی اور ان کے خلاف ، ان کے نزدیک طبائع پر ا ثر کرنے والی ، اس کو وہ انتخاب کرتے تھے اخبار میں شائع کرنے کے لئے۔ٹیلی ویژن میں دکھانے کے لئے اور ریڈیو پر بولنے کے لئے۔تو یہ عظیم احسان اللہ تعالیٰ نے وہاں کئے جن کے کئی سلسلے میں گنا چکا ہوں، شاید پانچواں آئے گا۔ہاں ابھی ایک قصہ رہ گیا ہے کہ وہ مضمون جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اور اس کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت میں نے یہاں تیار کیا تھا اور یورپ میں کہا گیا تھا کہ نہ سنایا جائے۔میں نے ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہاں نہیں سنایا تھا۔لنڈن میں مجھے وہ مضمون سنانے کا موقع ملا پینتالیس منٹ After dinner speech ( رات کے کھانے کے بعد ) جو انگریز کی عادت کے مطابق نہایت ہی ہلکی پھلکی تقریر ہونی چاہیے کوئی لطیفے یا اور لطائف کے اندر کوئی کام کی بات کر دی اور مختصر لیکن چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے میں نے مشورہ کیا میں نے کہا کہ یہ ایک موقع ہے جو پھر ہاتھ نہیں آئے گا اور اس مضمون کو میں پڑھنا ضرور چاہتا ہوں، یہ میری اپنی کوشش کا نتیجہ نہیں ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیار ہوا ہے ، ان کو یہ مضمون میں نے رات کو دے دیا، اگلے دن انہوں نے کہا میں نے پڑھا ہے آپ اسے ضرور پڑھیں۔خیر وہ مضمون جب میں نے پڑھا ہے