خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 886 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 886

خطبات ناصر جلد اوّل ΑΛΥ خطبہ جمعہ ۱۵ ر ستمبر ۱۹۶۷ء محبت کا یہ تقاضا ہے وہ چاہتے ہیں کہ میری آواز بھی سنیں۔تو میں نے سیلون کے وائس آف امریکہ کو لکھوایا جو ویزیلین کے اشتہار بھی ریڈیو پر براڈ کاسٹ کرتا ہے بلکہ دو دو چار چار آنے کی چیزیں براڈ کاسٹ کرتا ہے میں نے ان کو تحریک جدید کے ذریعہ لکھوایا کہ ہم اتنا وقت لینا چاہتے ہیں اور جو تمہارے ریٹ ہیں ان کے مطابق تمہیں پیسے دیں گے۔تو انہوں نے انکار کر دیا، کہا کہ ہم مذہبی پروگرام شائع نہیں کرتے اور مجھے بڑا صدمہ پہنچا کہ اس وقت میری یہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں ایسا انتظام کیا کہ ”بی بی سی کے ذریعہ ساری دنیا میں اور ”بی بی سی کے علاوہ بھی ( کیونکہ کوپن ہیگن میں جو افتتاح کی ریل تیار کی گئی تھی وہاں ریڈیو والوں کے مدنظریہ بھی تھا کہ وہ دنیا کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں سے سنائی جائے گی ) چنانچہ آج انہوں نے اطلاع دی ہے کہ مرا کو میں تین دفعہ وہ ریل براڈ کاسٹ ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے ملکوں میں بھی سنائی جائے گی۔ادھر ہم پیسے خرچ کرنے کے لئے تیار تھے اور وہ ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تمہارا انتظام کروں گا تم اپنا کام کرو۔تو پھر ہر ملک میں مثلاً فرینکفرٹ میں گئے وہاں ریڈیو پر آ گیا۔زیورک میں ریڈیو پر آگیا۔جرمنی میں آیا، ہالینڈ میں آیا کوپن ہیگن میں آ گیا۔انگلستان میں آیا۔تو جہاں جہاں یہ آواز پہنچتی تھی ریڈیو والوں نے ان کے کانوں تک پہنچا دی۔پھر نئی نئی چیز نکلی ہے ٹیلی ویژن، کم ہے نسبتاً ریڈیو سے، صرف ٹیلی ویژن پر اندازہ ہے کہ ایک کروڑ اور دو کروڑ کے درمیان لوگوں نے وہ پروگرام دیکھا ہے۔ویسے ٹیلی ویژن کے پروگرام مختلف جگہ تھے ، زیورک میں تھا وہ تو ہم نے بھی دیکھا شام کو ، پھر ہمبرگ میں بھی تھا، اس کے متعلق اخبار میں بھی آچکا ہے کہ ساٹھ ستر لاکھ آدمیوں نے وہ ٹیلی ویژن دیکھی۔پھر کوپن ہیگن میں تھا ، پھر کوپن ہیگن کی پہلی ٹیلی ویژن کی ریل تمام جرمن ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے براڈ کاسٹ کی اور دکھائی۔پھر جس سے مجھے بے انتہاء خوشی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں، وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے کہ کوپن ہیگن میں افتتاح کی ٹیلی ویژن کی تصویر سعودی عرب میں دو دفعہ دکھائی جا چکی ہے، اس اعلان کے ساتھ کہ سکنڈے نیویا میں مسلمانوں کی یہ پہلی مسجد ہے