خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 74
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۴ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء اکیلے نماز نفل ادا کر رہا ہے اور ایک جگہ چار پانچ آدمی اکٹھے ہو کر ایک قاری کے پیچھے نماز ادا کر رہے۔کچھ اور لوگ ہیں منٹ آدھ گھنٹہ پیچھے آئے اور انہوں نے علیحدہ نماز شروع کر دی۔یہ دیکھ کر آپ نے خیال فرمایا کہ یہ لوگ مختلف ٹولیوں میں پہلے وقت جو نماز ادا کر رہے ہیں تو کیوں نہ میں انہیں ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں؟ چنانچہ آپ نے ایک قاری کو امام مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر تم نے اصل وقت چھوڑ کر ہی یہ نوافل ادا کرنے ہیں تو اپنی اجتماعی روح کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قاری کے پیچھے آکر نماز ادا کر لیا کرو اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ بہتر وقت وہی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ نوافل ادا فر ما یا کرتے تھے یعنی رات کا پچھلا پہر۔تو پہلے تہجد کی نماز رات کے پچھلے حصہ میں پڑھی جاتی لیکن جائز ہے کہ رات کے پہلے حصہ میں بھی یہ نوافل ادا کر لئے جائیں اور اصل یہی ہے کہ انسان نوافل کو علیحدہ تنہائی میں ادا کرے کیونکہ نوافل کی بہت سی برکات کا تعلق خاموشی تنہائی اور پوشیدگی سے ہے اور جو شخص واقعی اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والا ہو وہ اپنے اس پیار کا اظہارلوگوں کے سامنے نہیں کیا کرتا۔اس لئے یہ نماز گھر میں تنہائی میں پڑھنی چاہیے۔لیکن اگر کوئی شخص اس میں دقت محسوس کرے تو پورے ثواب سے محروم ہونے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ وہ عشاء کے بعد ان نوافل کو ادا کرے اس طرح ایک حد تک اسے بھی ثواب حاصل ہو جائے گا۔ایک اور چیز جس کا تعلق ماہ رمضان سے ہے وہ لیلتہ القدر کی تلاش ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلتہ القدر کو تلاش کرو۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِثْزَرَةً وَاَحْيِي لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ اَهْلَهُ کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آجا تا تو آپ اپنی کمر کس لیتے یعنی معمول سے زیادہ مجاہدات کے لئے مستعد اور تیار ہو جاتے۔گودیسے بھی آپ بڑے اہتمام سے رات کو نوافل ادا کیا کرتے لیکن جب رمضان کے آخری دس روز شروع ہو جاتے تو آپ مجاہدات کا اور زیادہ اہتمام فرماتے۔