خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 873
خطبات ناصر جلد اول ۸۷۳ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء طبیعت میں بشاشت پیدا ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس سفر پہ میں ضرور جاؤں گا۔اس زمانہ میں سندھ کے ایک احمدی دوست کو یہ کشف ہوا ، لکھتے ہیں کہ میں نے بیداری کی حالت میں دیکھا کہ ایک بزرگ سفید کپڑوں میں ملبوس آئے ہیں اورعربی زبان میں مجھ سے گفتگو شروع کر دی ہے اور پوچھتے ہیں کہ تمہیں علم ہے کہ خلیفتہ اُسیح یورپ کے سفر پر جا رہے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ ہاں مجھے علم ہے اس پر وہ بزرگ کہنے لگے کہ کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے لی ہے اس سفر پر جانے کی؟ تب وہ کہتے ہیں کہ میرے سامنے یہ نظارہ آیا کہ مسجد مبارک میں ( غالباً انہوں نے لکھا ہے کہ قادیان کی مسجد مبارک میں ) آپ آئے ہیں اور محراب کے قریب آپ کھڑے ہو گئے ہیں، میں آپ کے پاس پہنچا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس سفر پر جانے کی اللہ اجازت لے لی ہے آپ نے جواب دیا کہ ہاں! میں نے اپنے اللہ سے اجازت لی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے اور بڑی بشارت اور نہایت اعلی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ پھر میں واپس گیا اور اس بزرگ سے جو عربی میں باتیں کر رہے تھے مزید باتیں کرتا رہا اور یہ سارا نظارہ بیداری کے عالم میں میں نے دیکھا۔تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر کہ وہ خود مد دکرے گا اور اس رنگ میں مدد کرے گا کہ کسی اور کی حاجت محسوس نہ ہوگی۔میں نے اس سفر کو اختیار کیا تھا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سفر کے دوران بڑے بڑے عظیم احسان مجھ پر اور آپ پر کئے ہیں پہلا سلسلہ احسانوں کا تو وہ بشارتیں ہیں جو بیبیوں کی تعداد میں جماعت کو ملیں ، بڑوں نے بھی ، چھوٹوں نے بھی ، مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے بشارتیں پائیں۔ان بشارتوں کا تعلق صرف میری ذات سے نہیں، ان بشارتوں کا تعلق صرف آپ میں سے بعض کی ذات سے نہیں بلکہ ان بشارتوں کا تعلق ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہے جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔تو یہ بشارتیں اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں جو جماعت پر بڑی کثرت سے ان دنوں میں ہوئے۔وہاں بھی ہوئے ، یہاں بھی ہوئے ، افریقہ اور دوسرے ملکوں کے رہنے والوں