خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 872 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 872

خطبات ناصر جلد اول ۸۷۲ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء ابھاروں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے عظیم احسان ہم پہ کئے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ عظیم احسان اپنے بندوں پر کرتا ہے تو بہت سی ذمہ داریاں بھی ان پر عائد کرتا ہے پس اس عظیم احسان کو بھی پہچانو اور ان عظیم ذمہ داریوں کو بھی نبھانے کی کوشش کرو۔احسان جیسا کہ میں نے بتایا ہے گنے نہیں جا سکتے۔لیکن بعض مثالیں اس کے احسانوں کی میں اس وقت دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔جب یہ انتظام ہو رہا تھا کہ میں سفر پہ جاؤں مختلف یورپین ممالک کی جماعتوں کی یہ خواہش تھی کہ میں اس سفر کو اختیار کروں ،تحریک جدید والے کہتے تھے کہ کوپن ہیگن کی مسجد کا خود جا کے افتتاح کریں لیکن دل میں ابھی پورا انشراح پیدا نہیں ہوا تھا، کیونکہ خدا کا ایک بندہ خدا کی منشا کے بغیر اور اس کے اذن کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا ، تب میں نے خود بھی دعائیں کیں اور جماعت کے دوستوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا کہ وہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر یہ اہم سفر بابرکت ہو تبھی یہ سفر اختیار کیا جائے اگر یہ مقدر نہ ہو تو روک پیدا ہو جائے۔ان دعاؤں کے بعد اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم نشان میں نے دیکھا اس کے نور کا حسین ترین جلوہ مجھے دکھایا گیا، جس کی تفصیل میں ربوہ والے خطبہ میں بیان کر چکا ہوں اور کسی وقت الفضل کے ذریعہ آپ تک پہنچ جائے گی۔اس لئے اس کی تفصیل میں میں اس وقت جانانہیں چاہتا اور مجھے یہ تسلی دی گئی تھی کہ بے شک تم ایک عاجز انسان ہو، ایک کم مایہ وجود ہو لیکن خدا تمہارے ساتھ ہے اور رہے گا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ہو جائے تو کسی اور چیز کی ، کسی اور وجود کی کسی اور منبع اور سرچشمہ کی اسے ضرورت نہیں رہتی۔اسی حسین نظارہ میں جس کی تفصیل انشاء اللہ آپ پڑھ لیں گے میں نے ایک یہ نظارہ بھی دیکھا تھا کہ ایک عجیب نور جو مختلف رنگوں سے بنا ہوا ہے وہ ایک دیوار سے پھوٹ پھوٹ کے باہر نکل رہا ہے اور بہت موٹے حروف میں جو قریباً کم و بیش ( پہلے خطبہ میں جو اندازہ کیا تھا وہ میں غلط کر گیا تھا ) نظر کا اندازہ یہ ہے کہ اتنا پھیلاؤ تھا جتنار بوہ میں قصر خلافت کا ہے۔وہاں الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہ کے حروف اُبھرے ہیں اور اس کے پیچھے سے ٹور چھن چھن کے باہر آرہا ہے اس دن جب میں نے نظارہ دیکھا تو میری