خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 856 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 856

خطبات ناصر جلد اول ۸۵۶ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء سلوک ان سے کیا اور ان کے سینوں کو اپنے نور سے اور اپنی محبت سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فرزند جلیل کی محبت سے بھر دیا اور یہ ایک نمونہ بن گئے ہیں اس دنیا کے لئے۔میں تو ان سے کہتا تھا کہ تمہیں دیکھ کے کچھ امید بندھتی ہے ورنہ جن قوموں سے تم نکلے ہو اگر ان کے کردار اور گزری زیست پر نگاہ کریں تو وہ اس قابل ہیں کہ ہلاک کر دیئے جائیں لیکن جس قوم سے تمہارے جیسے خدا کے پیارے پیدا ہو سکتے ہیں اس قوم میں سے جہاں بارہ نکلیں بارہ لاکھ بھی نکل سکتے ہیں اس لئے ہمیں امید بندھتی ہے کہ شاید تمہاری قو میں بچ جائیں اللہ تعالیٰ کے قہر سے اور قہر کی بجائے رحمت اور پیار کے جلوے جو ہیں وہ ان کو ملا حظہ کریں۔دیکھو میں ہوں ایک ذرہ ناچیز مجھ سے اگر کوئی احمدی پیار کرتا ہے تو صرف اس لئے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا پیار ہے اس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہے اس کے دل میں مسیح موعود کا پیار ہے۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس شخص کو ایک مقام پر فائز کیا ہے اور اس کے وعدے ہیں کہ وہ اس کے ساتھ ہے۔اس لئے اور صرف اس لئے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے ور نہ مجھ میں ذاتی کوئی خوبی نہیں اور اسی قسم کا پیار میں نے وہاں دیکھا کہ دل چاہتا تھا کہ جسم کا ذرہ ذرہ اپنے رب پر قربان ہو جائے اور ان بھائیوں پر بھی جن کے دل کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح سراپا محبت بنا دیا۔کوپن ہیگن کی مسجد کے افتتاح کے موقعہ پر ہمارا یہ غیور اور محبت کرنے والا بھائی میڈیسن میری حفاظت اور پہرے کا بھی خیال رکھتا رہا پھر افتتاح کے موقع پر کم و بیش تین منٹ اس نے بولنا تھا۔ایک ایک لفظ اس کے گلے میں اٹکتا اس قسم کا جذباتی وہ ہو گیا تھا حالانکہ سکنڈے نیویا کے لوگ اپنے جذبات کا لوگوں کے سامنے اظہار اتنا برا سمجھتے ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ایک دفعہ ہمارا ایک آنریری مبلغ وہاں آیا ہوا تھا اس کو اطلاع ملی کہ اس کا باپ فوت ہو گیا ہے لیکن امام کمال کو پتہ بھی نہیں لگا نہ اس کی زبان نے ظاہر کیا نہ اس کے چہرے نے ظاہر کیا نہ اس کی طرف سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اس قدر ضبط ہے ان کو اپنے نفسوں پر۔اس کے با وجود پانچ چھ دن جو ہم ٹھہرے معلوم نہیں کتنی دفعہ آبدیدہ ہوئے جذباتی ہو گئے وہ دوست۔ایک ہمارے بہت ہی مخلص آنریری مبلغ ناروے کے ہیں۔ان کا نام ہے نور احمد۔اس