خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 848
خطبات ناصر جلد اول ΔΙΑ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء لگے ہیں۔آنکھ کھلی تو یہی الفاظ زبان پر جاری تھے۔رات کے بقایا حصہ میں صبح تک یہی الفاظ بار بار سنائی دیتے رہے اور ساتھ آنکھ کھلتی رہی اور اسی طرح زبان تکرار کے ساتھ یہی الفاظ دہراتی رہی بغیر ارادہ کے۔تیسری رؤیا میں اپنی بچی امتہ الشکور کی سنانا چاہتا ہوں۔یہ بڑی دعا گو بچی ہے اور بڑی صابرہ۔وہی بچی ہے جس کا پہلا بچہ ولادت کے وقت فوت ہوا اور اسی وقت آدھے گھنٹے کے بعد جب ڈاکٹر نے فارغ کیا میں اسے ملنے گیا تو مسکراتے ہوئے چہرہ کے ساتھ وہ مجھے ملی۔بچی نے نو مہینے کی تکلیف اٹھائی ہو لیکن پیدائش کے وقت بچہ فوت ہو جائے کچھ تو گھبرا ہٹ ہونی چاہیے تھی چہرہ پر ؟؟ لیکن اس قدر خوش میں نے اس کا چہرہ دیکھا کہ میں خود حیران ہو گیا اور میرے دل نے اس وقت کہا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جلد ہی اس کا اجر بھی دے گا۔اتنا صبر کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔چنانچہ اپنے وقت پر جب دوسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ بھی لڑکا تھا۔( اور پہلے جو بچہ پیدا ہوا وہ بھی لڑکا تھا ) اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت مند ہے وہ۔تو اس صابرہ ذہنیت کی بچی ہے یہ ! جب میں ابھی سفر پر روانہ نہیں ہوا تھا تو اس نے ایک خواب دیکھی جو بظاہر بڑی مندر تھی اور اس کا دل دہلا دینے والی تھی۔اس نے مجھے کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھی ہے۔اس کے چار پانچ اجزاء تھے جن میں ہر جزو کی تعبیر نہایت ہی مبشر تھی۔میں نے اس کو تسلی کا خط لکھا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں بڑی مبشر خواب ہے یہ تو۔دوسری خواب اس نے ہمارے یہاں سے روانہ ہونے کے بعد دیکھی۔وہ لکھتی ہے آپ کے یورپ تشریف لے جانے کے چند دن بعد خواب میں آپ کی یورپ کو روانگی کا نظارہ دیکھا کہ ایک بہت بڑا گھر ہے اور وہاں پر سب خاندان اور دوسرے احباب بھی آئے ہوئے ہیں میں دوسری منزل کی کھڑکی سے کھڑی نیچے جھانک رہی ہوں جہاں کاریں تیار کھڑی ہیں اور ابا حضور ( یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آپ کو رخصت کرنے کے لئے تشریف لائے ہوئے ہیں۔آپ لوگ سب سے پچھلی کار کے پاس کھڑے ہیں آپ نے اور ابا حضور نے تیز نیلے رنگ کی اچکنیں اور سفید پگڑیاں پہنی ہوئی ہیں۔( ہمارے بچے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو