خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 70
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء تو اگر کہے تو ہم بھوکے پیاسے مرنے کے لئے تیار ہیں۔اور تو اگر چاہے اور تیری رضا اسی میں ہو تو ہماری نسلیں بھی تجھ پر قربان۔پس یہ ایک بنیادی منشا ہے جس کے گرد قر آن کریم اور اسلامی شریعت کے تمام احکام چکر لگاتے ہیں اسی وجہ سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ باقی عبادتوں کا تو اپنا اپنا ثواب ہے۔لیکن روزہ میرے لئے ہے اور میں خود روزے دار کی جزاء ہوں۔اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔غرض ماہ رمضان کے روزے جو ہم پر فرض کئے گئے ہیں ان کے ذریعہ دراصل ہم سے عملاً یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ ہماری زندگی بھی تیری راہ میں قربان اور ہماری نسل بھی تیری راہ میں قربان اور اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جس شخص نے روزہ کی اس روح کو نہیں پایا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ تمہیں بھوکا پیاسا نہیں رکھنا چاہتا۔نہ اسے اس سے کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی غرض۔پس اس روزے کے پیچھے جو روح ہے اسے پیدا کرو۔آپ نے فرمایا :۔مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَه - کہ جو شخص کذب (جھوٹ ) کو نہیں چھوڑتا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔زور کے ایک معنی حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف مائل ہو جانا‘‘ کے بھی ہیں۔تو اس حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ جو شخص جھوٹ کو نہیں چھوڑتا اور حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف میلان رکھتا ہے اور شریعت حقہ کے تقاضوں کی بجائے باطل کے شیطانی تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے تو اسے روزہ رکھنے سے کیا فائدہ؟ خدا کو تو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔دراصل ترک طعام اور ترک شہوت کے پیچھے جو روح ہے اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ایک مومن کا فرض ہے۔