خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 838
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۳۸ خطبہ جمعہ ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء ہوں وہاں مختلف کارپوریشنز ہیں جن میں سے ہر ایک انڈی پینڈنٹ ہے۔آپس میں ان کا کوئی تعلق نہیں۔ان میں سے اُس کارپوریشن کا جس کے علاقہ میں ہماری مسجد ہے الگ لارڈ میئر ہے اس کے علاوہ ایک اور کارپوریشن ہے جس میں کوپن ہیگن کا پرانا شہر واقع ہے۔اس کی میئرس ایک عورت ہے ان دونوں کارپوریشنوں نے ہمیں ری سپشن دی ہوئی تھی۔ہمارے علاقہ کی کارپوریشن کا لارڈ میئر مشن سے اتنا تعلق رکھتا ہے کہ وہ چھٹیوں پر گیا ہوا تھا اور وہاں سے وہ صرف مسجد کے افتتاح میں شامل ہونے اور مجھے ری سپشن دینے کے لئے واپس آیا اور بڑے پیار سے اس نے مجھ سے گفتگو کی میں نے اسے بتلایا کہ ہمارے احمدی مسلمان تمہاری کارپوریشن کے بہترین شہریوں میں سے ہوں گے کیونکہ ہمارا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم ملکی قانون کی پابندی کریں اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔لارڈ میئر نے ہمیں اپنی کارپوریشن کا جھنڈا دیا اور ہم نے اسے قرآن کریم دیا۔پھر ہم دوسری کارپوریشن کی طرف سے دی ہوئی ریسپشن میں شریک ہوئے اس میں لارڈ میئرس نے ہمیں اپنی کارپوریشن سے متعلق ایک معلوماتی کتاب دی اور ہم نے اس کو قرآن کریم پیش کیا باتیں بھی ہوتی رہیں۔اس موقعہ پر پریس کے نمائندے بھی موجود تھے اگلے دن اس ری سپشن کی تصویر بھی اخباروں میں آگئی۔جس میں لارڈ میئرس کو قرآن کریم وصول کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ایک اخبار نویس نے شرارتا اسے کہا کہ انہوں نے تم کو اپنا ہاتھ نہیں دیا۔یعنی مصافحہ نہیں کیا وہ عورت پڑھی لکھی تھی اور بڑی ہوشیار تھی اس نے فوراً یہ جواب دیا کہ انہوں نے مجھے اپنا ہاتھ تو نہیں دیا لیکن مجھے قرآن کریم دیا ہے اور اگلے دن اس کا یہ فقرہ بھی اخباروں میں چھپ گیا۔اس کے بعد ہم یورپ کو چھوڑ کر لنڈن پہنچے لنڈن کے پریس نے ہمارے ساتھ پہلے تو کوئی تعاون نہیں کیا یعنی انہوں نے ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں دی۔صرف ایک اخبار نے خبر دی جس کا نمائندہ ائیر پورٹ پر آیا ہوا تھا اور اس سے گفتگو بھی ہوئی تھی لیکن عام طور پر پریس نے ہمیں نظر انداز کیا تین دن ہم وہاں رہے پھر ہم سکاٹ لینڈ چلے گئے وہاں بھی پر یس کا نفرنس ہوئی اور وہاں کی اخباروں نے خبریں بھی دیں اس کے بعد ہم چند روز ”ونڈ رمیر“ ٹھہرے اس دوران