خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 832
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۳۲ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء سے کہا یہ حوالے ساتھ رکھ لیں شاید وہاں کام آئیں ان حوالوں میں وہ حوالہ بھی تھا اور پھر وہ اُردو میں نہیں تھا بلکہ اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہوا تھا میں نے وہ حوالہ منگوایا اور اس نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا یہ ہے حوالہ اس نے اسے پڑھا تو کہا میں نے اسے نقل کرنا ہے میں نے کہا بڑی خوشی سے نقل کرو اور اگلے دن اس اخبار میں جس میں اسلام کے حق میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں چھپا تھا ایک لمبا نوٹ چھپا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ ساری عبارت بھی نقل کر دی گئی اس نے لکھا کہ آپ کا دعوی تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس غرض کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں کہ اس صلیب کو دلائل کے ساتھ توڑ دوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو تو ڑا تھا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا تھا۔میں نے جب اسے وہ حوالہ دیا تھا تو اسے یہ بھی کہا تھا کہ دیکھنا یہ غلطی نہ کرنا کہیں دلائل سے“ کے الفاظ چھوڑ دو اس سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے چنانچہ اس نے پورا حوالہ شائع کیا سارے حیران تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں تو کوئی توقع نہیں تھی کہ اس قسم کی پریس کانفرنس ہوسکتی ہے سارے اخباروں میں خبریں شائع ہوئیں اُن میں سے کسی نے مسجد کی فوٹو دی اور کسی نے نہ دی لیکن ہمارے فوٹو کے ساتھ نوٹ شائع کئے غالباً مسجد کی فوٹو اس لئے شائع نہ کی گئی کہ اس کے فوٹو اخبارات میں آچکے ہیں اور وہ پرانی مسجد ہے۔اس کے بعد ہم ہیگ پہنچے۔( میں اس وقت صرف پریس کانفرنسوں کو لے رہا ہوں ) وہاں حافظ قدرت اللہ صاحب مجھے کہنے لگے کہ یورپ کے دوسروں ملکوں کی نسبت یہاں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تعصب بہت زیادہ ہے اور میں ڈر رہا ہوں پتہ نہیں پر یس کا نفرنس میں کیا ہوگا اور غالباً میں نے ان سے ہی کہا تھا کہ آپ فکر نہ کریں سوال مجھ سے ہونے ہیں اور میں نے ہی ان کے جواب دینے ہیں وہاں بھی پریس والوں نے بڑے ادب اور احترام کے ساتھ مجھ سے باتیں کیں ایک نوجوان جو بڑا لمبا اور صحت والا تھا اور غالباً کسی کیتھولک اخبار کے ساتھ تعلق رکھتا تھا اس نے ایک سوال کیا سوال تو اس نے بڑے ادب سے کیا لیکن اس کی آنکھوں میں شوخی تھی وہ نوجوان کہنے لگا آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے ہمارے ملک میں کتنے مسلمان کئے ہیں غالباً اسے علم تھا کہ یہاں احمدی تھوڑی تعداد میں ہیں میں نے اس کو کہا کہ تمہارے نزدیک مسیح علیہ السلام کی