خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 808 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 808

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۰۸ خطبه جمعه ۱۱ اگست ۱۹۶۷ء جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے 66 لوں گا۔“ اگر عہد نامہ قدیم کی تعلیم پر عمل کرنے سے مستقبل کے مسائل کا حل ممکن ہوتا تو کسی نئے نبی کی بعثت کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ کے قہر اور اس کی تباہیاں اس نبی کے منکرین پر نازل نہ ہوتیں۔عہد نامہ جدید نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کی تعلیم مکمل ہے جیسا کہ لکھا ہے :۔” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔“ پس موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ تو رات نامکمل کتاب ہے اور ایک موعود نبی کی کامل شریعت کی بشارت دی ہے۔مسیح نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کی تعلیم بھی مکمل نہیں ہے کیونکہ وہ وقت کامل و اکمل شریعت کے لئے ساز گار نہ تھا۔انسانی دماغ اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ کامل شریعت کا مخاطب ہو۔یہ کوئی بے بنیاد دعویٰ نہیں ہے بلکہ حضرت مسیح موعود نے اسلام کے مخالفین کو چیلنج کیا کہ وہ اسلام کی کامل تعلیم کے مقابلہ میں اپنی تعلیم پیش کریں اور یہ ثابت کریں کہ ان کی تعلیم اسلامی تعلیم سے افضل ہے مگر کسی مذہب کا کوئی نمائندہ بھی میدان مقابلہ میں نہ آیا۔مثال کے طور پر ایک دفعہ آپ سے ایک عیسائی نے یہ سوال کیا کہ قرآن مجید کے نزول کی کیا ضرورت تھی جبکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت موسی بچے نبی ہیں اور تورات ایک الہامی کتاب ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہ سچ ہے کہ موسیٰ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور یہ بھی درست ہے کہ تو رات اپنی اصل شکل میں ایک الہامی کتاب تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ کی تعلیمات کا دور ختم ہو چکا ہے اور آپ کی تعلیمات کا چشمہ خشک ہو چکا ہے۔لہذا انسان کی روحانی پیاس اس سے نہیں بجھ سکتی۔آج اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کا روحانی سمندر