خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 797 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 797

خطبات ناصر جلد اول ۷۹۷ خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء لوگوں میں نظر آتا ہے وہاں یہ سوچ کر دل کچھ گھبراتا ہے کہ ہمارے سینکڑوں ہزاروں پاکستانی آدمی جو یہاں بستے ہیں، کیا ہم جو پاکستان کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں یا نہیں۔کیا ہم نمونہ کی زندگی بسر کر رہے ہیں یا نہیں پاکستان میں اس وقت جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔وہ ملک جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ تمام دنیا میں اسلام کو پھیلائے اور اس عالمی مہم کے لئے بنیاد کا کام کرے وہ ملک جس کے باشندے خدا تعالیٰ کی آواز کے پہلے مخاطب ہیں۔وہ کندھے جن پر سب سے پہلے اسلام کی ذمہ داریاں عائد ہوئیں کیا یہ لوگ نئے آنے والوں کے استاد بنیں گے یا بطور شاگردان کے سامنے بیٹھیں گے۔مجھے انتہائی شرم محسوس ہوئی جب زیورک میں ایک ہمارے احمدی نومسلم نے مجھے یہ بات بتائی ( یہ احمدی دوست زیورک میں تین ہزار مزدور ترکوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ) کہ میں ان مسلمان ترکوں کو اسلام سکھاتا ہوں یہ مسلمان کس قدر گر گئے ہیں یہ لوگ یورپ میں آئے جہاں کی زندگی انتہائی گندی ہے جس کا تصور کر کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ قومیں تباہی کے گڑھے پر کھڑی نظر آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی ہے کہ اگر یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کریں گے تو دنیا سے مٹا دئے جائیں گے۔یہاں پر ایک شخص اسلام لا تا اور احمدیت قبول کرتا ہے وہ ان لوگوں کو جو نسلاً بعد نسل اسلام میں پیدا ہوئے اسلام سکھاتا ہے وجہ یہ ہے کہ یہ اقوام اسلام سے کلیہ غافل ہو گئی ہیں اور انہیں چھوٹے چھوٹے مسائل کا بھی علم نہیں۔ان کے علماء انہیں اس کی طرف توجہ نہیں دلاتے یہ لوگ رسم و رواج کی پابندی کرتے ہیں مگر احکام الہی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اگر آپ ان رسوم کا مطالعہ کریں جو مسلمانوں میں رائج ہو ئیں عام رسوم کو چھوڑتے ہوئے اگر وہ رسوم دیکھی جائیں جو اسلام سے ٹکراتی ہیں اور جنہوں نے مسلمانوں میں رواج پکڑ لیا ہے اس کی وجہ سے ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کے احکام کو طاق نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہمارے اسی احمدی نو مسلم نے ایک مسئلہ کا ذکر کیا کہ ایک ترک رمضان میں بیمار ہو گیا اسے دوائی دی گئی تو اس نے انکار کر دیا اور روزہ رکھنے پر بہت اصرار کیا میں نے جب اسے قرآن مجید