خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 773 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 773

خطبات ناصر جلد اول ۷۷۳ خطبہ جمعہ ۳۰ جون ۱۹۶۷ء ہماری جماعت میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ ہر بچہ اٹھنی دے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر بچہ جتنا دے سکتا ہے ضرور دے اگر وہ دھیلا دے سکتا ہے، اگر وہ ایک پیسہ دے سکتا ہے، اگر وہ ایک آنہ دے سکتا ہے دونی دے سکتا ہے، چونی دے سکتا ہے تو اتنا اس کو ضرور دینا چاہیے ورنہ آج اس کے دل میں اسلام کی محبت کا وہ بیچ نہیں بویا جائے گا جو بڑے ہو کر درخت بنتا اور شیریں پھل لاتا ہے۔پس اپنی نسلوں پر رحم کرو اور اپنے بچوں سے اس محبت کا اظہار کرو جو ایک مسلمان ماں اپنے بچے سے کرتی ہے اور اس پیار کا اس سے سلوک کرو جو ایک مسلمان باپ اپنے بچے سے کرتا ہے اور ان بچوں کے دل میں سلسلہ کے لئے قربانیوں کا شوق پیدا کرو اور ان کے دل میں یہ احساس پیدا کرو کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان کو بہر حال جد و جہد اور کوشش کرنی پڑتی ہے اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی۔اگر انسان خدا کی راہ میں قربانیاں نہ دے تو اس کے نتیجہ میں شیطان تو خوش ہو سکتا ہے مگر خدا خوش نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور ان کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوہ 9 جولائی ۱۹۶۷ ء صفحہ ۲، ۳)