خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 772 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 772

خطبات ناصر جلد اول ۷۲ خطبہ جمعہ ۳۰/ جون ۱۹۶۷ء چاہیے۔جو بچہ روپیہ یا ڈیڑھ روپیہ یا اٹھنی یا چونی گندی چیزوں کے کھانے پر صرف کرتا اور صحت کو خطرہ میں ڈالتا ہے اگر اس کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ یہ چند آنے تم وقف جدید میں دو اور اس طرح اپنی روحانی صحت کے بنانے کی کوشش کرو اور وقف جدید کی اہمیت ان پر واضح کی جائے اور احمدی بچے کی جو شان ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جس مقام پر دیکھنا چاہتا ہے وہ شان اور وہ مقام اسے اچھی طرح سمجھایا جائے اس زبان میں جس زبان میں کہ بچہ سمجھ سکتا ہے۔چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی اگر اس کی زبان میں بات کی جائے تو بڑی گہری باتوں کو بھی سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ اس کی زبان میں بات کی جائے سادہ طریقہ سے اس کو سمجھایا جائے تو وہ سمجھ سکتا ہے بلکہ بعض بوڑھوں سے بعض دفعہ بعض بچے زیادہ جلدی سمجھ جاتے ہیں اور زیادہ شوق سے اپنی ذمہ داری کو نباہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن نہ مائیں اس طرف متوجہ ہیں اور نہ باپوں کو کچھ خیال ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو نبا ہیں۔۔اس وقت تک میں سمجھتا ہوں کہ جو ذمہ داری میں نے وقف جدید کے سلسلہ میں احمدی بچوں پر ڈالی تھی جماعت کے احمدی بچوں میں سے ابھی ۲۰ فیصدی بمشکل ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہے اور اس کی ادائیگی کی کوشش کر رہے ہیں باقی اسی فیصدی بچے جماعت کے ایسے ہیں کہ جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھ رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کے اسی فیصدی باپ اور جماعت کی اسی فیصدی مائیں ایسی ہیں جنہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے لئے خدا کی رضا کی جنت کو کس طرح پیدا کرنا ہے کیا آپ اس بات کو پسند کریں گی اے احمدی بہنو! اور کیا آپ اس بات کو پسند کریں گے اے احمدی بھائیو!! کہ آپ کو تو خدا کی رضا کی جنت نصیب ہو جائے لیکن آپ کے بچے اس جنت کے دروازے سے دھتکارے جائیں اور دوزخ کی طرف ان کو بھیج دیا جائے یقیناً آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند نہیں کرے گا جب آپ ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے تو پھر آپ ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور بچوں کے دلوں میں دین کی راہ میں قربانیاں دینے کا شوق پیدا کریں۔