خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 770 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 770

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳۰ جون ۱۹۶۷ء باہر سے جو اطلاعات آرہی ہیں ان سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ بعض جماعتیں اور بہت سی جماعتوں کے بعض افراد قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور قرآن کریم کی عملاً وہ قدر کر رہے ہیں جو قرآن کریم کا حق ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی بعض جماعتوں کے متعلق یہ رپورٹ ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے اور قریباً ہر جماعت کے بعض افراد کے متعلق یہ اطلاع ہے کہ وہ اس فریضہ کی اہمیت کو ابھی تک سمجھ نہیں رہے اس لئے میں آج مختصر الفاظ میں پھر اپنے بھائیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اس بات کی طرف کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں یہ کوئی معمولی کام نہیں، یہ کوئی معمولی فریضہ نہیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے اور جس کی طرف آپ کو میں نے توجہ دلائی ہے بلکہ فرائض میں سے ایک بنیادی فریضہ ہے۔اگر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی شریعت آخری شریعت ہے ایک کامل اور مکمل شریعت ہے جس کے بعد کسی دوسری شریعت کی ضرورت ہمارے لئے باقی نہیں رہتی تو پھر ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمیں اپنے رب کی طرف سے ملنا تھا وہ مل چکا۔اگر ہم خدا کے اس عطیہ کی قدر نہ کریں تو ہم بڑے ہی ظالم ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر وارد کرنے والے ہوں گے۔پس اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے خود بھی قرآن پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن پڑھا ئیں۔خود بھی قرآن کریم کے معنی سیکھیں اور آئندہ نسل کو بھی قرآن کریم کے معنی سکھائیں۔خود بھی قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کریں اور بہترین تفسیر اس وقت ہمارے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی تفسیر ہے تو خود بھی قرآن شریف کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کے دل میں بھی یہ محبت پیدا کریں کہ وہ قرآن کے علوم اور اس کے معارف اور اس کے دلائل اور اس کی برکات سے آگاہ ہوں اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ احمدی مستورات پر بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے کیونکہ چھوٹے بچوں کی نگرانی کا کام ان کے ذمہ ہے پھر وہ ماں جو قرآن کریم پڑھنا جانتی ہے مگر اپنے بچے کو پڑھاتی نہیں وہ ایک ظالم ماں ہے اور ہر وہ ماں جو قرآن کریم کے معنی جانتی ہے مگر اپنے بچوں کو وہ معانی نہیں سکھاتی وہ قرآن کریم کی قدر نہیں کر رہی قرآن کی قدر کو پہچانتی نہیں اور