خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 752 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 752

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۵۲ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء تھیں ایک مقصد اور دعا تو یہ تھی کہ ان میں ایک ایسا رسول مبعوث ہو ، جس کی یہ صفات ہوں جو یہاں بیان کی گئی ہیں، جو کامل اسوۂ حسنہ ہو جس کے ذریعہ سے ہمیشہ روحانی فیض جاری رہے اور دوسرے آیات بینات کا لامتناہی سلسلہ دنیا کومل جائے تیسرے ایک ایسی کامل شریعت ہو کہ جس میں قیامت تک کوئی رخنہ اور فساد داخل نہ ہو سکے اور چوتھے انسانی عقل جو اپنے عروج اور کمال کو پہنچ چکی ہوگی اس وقت ان کو حکمت کی باتیں وہ بتائے ، وجہ بتائے اور دلیل دے کہ یہ حکم اس وجہ سے دیا جا رہا ہے اور پانچویں اس کے نتیجہ میں ان کے تزکیہ نفوس کے سامان پیدا کر دے۔در اصل تزکیہ نفوس آیات بینات کے بغیر اور شریعت کے احکام جو کھول کر بیان کئے گئے ہوں جن کی حکمتیں بیان کی گئی ہوں، ان کے بغیر ممکن ہی نہیں اور اصل مقصد یہ تھا کہ امت محمدیہ کی پیدائش کی اور قیام کی جو بنیادی غرض ہے وہ پوری ہو اور جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ حسنہ سمجھتا اور اس کی پیروی کرتا ہے، جو شخص آیات بینات سے فائدہ اٹھا تا ہے جو شخص کامل شریعت کے احکام اور نواہی کا علم حاصل کرتا ہے اور اس کی حکمتوں سے واقف ہو جاتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے اور اس طرح پر وہ تزکیہ نفس حاصل کر لیتا ہے، وہ شخص اور وہ قوم وہ ہے جس کے متعلق ان آیات کی ابتدا میں یہ کہا گیا تھا۔کہ وُضِعَ لِلنَّاسِ “ اور فرمایا تھا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تو ان آیات کی ابتدا اِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ سے ہوئی تھی اور انتہا جو ہے وہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ میں بیان کی گئی ہے دراصل رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان کے بغیر وہ بائیں مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جن کا ذکر ان آیات میں ہے اور جن پر میں کچھ روشنی پہلے ڈال چکا ہوں اور جب تک وہ مقاصد حاصل نہ ہوں اس وقت تک امت مسلمہ خیر امت نہیں بن سکتی۔قرآن کریم کے الکتب ہونے کے متعلق اور قرآن کریم کے شریعت کی حکمتوں کے بیان کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو اقتباسات بھی اس وقت میں دوستوں کو سنانا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے جس کے عقاید ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو