خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 751 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 751

خطبات ناصر جلد اول ۷۵۱ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء - سامان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لئے ہدایت کی راہ کو ڈھونڈھ لیتا ہے وہ اپنے نفس کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا (يونس: ۱۰۹) اور جو تزکیۂ نفس کے سامانوں سے فائدہ نہیں اٹھا تا اور ہدایت کی راہوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہدایت کی راہوں کی بجائے ضلالت کی راہوں پر چل پڑتا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے رب کی بجائے شیطان کی طرف منہ کر کے اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔تو میں اسے یہ بتا دیتا ہوں کہ تمہیں اس گمراہی سے روکنے کے لئے بھی جبر سے کام نہیں لیا جائے گا۔اِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ (النمل: ۹۳) میں تو ڈرانے والے منذر رسولوں میں سے ایک رسول ہوں یہ صحیح ہے کہ سب سے بڑا ہوں ، سب سے افضل ہوں ، سب سے اعلیٰ ہوں اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوں لیکن میری حیثیت منذر کے علاوہ اور کچھ نہیں میں نے تم پر جبر نہیں کرنا میں نے جبر سے ضلالت کی راہوں سے تمہیں ہٹا نا نہیں اور ہدایت کی راہوں کی طرف تمہیں لانا نہیں۔وَقُلِ الْحَمْدُ لِله یہ کہہ دے کہ اللہ ہی کی سب تعریف ہے جس نے اسلام میں آیات بینات اور الْكِتَابُ اور الْحِكْمَةُ اور تزکیہ کے سامان پیدا کر دیئے اور ایک ایسے رسول کو مبعوث فرمایا جس نے کامل نمونہ دنیا کے سامنے رکھا جس کی پیروی اور اتباع کے نتیجہ میں انسان اپنے رب کی محبت کو پالیتا ہے اور اس کے انعامات کا وارث بن جاتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ سب تعریفوں کا مستحق ہے وہ خدا سیر نكُمُ التِهِ فَتَعْرِفُونَها جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت پھرا اپنی آیات بینات اور قرآن کریم کے علوم کو ظاہر کرے گا اس کی حکمتوں کو بیان کرے گا اور ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ دنیا کے لئے دین کی راہوں پر چلنا آسان ہو جائے گا اور بشاشت قلب کے ساتھ وہ اپنے رب کے لئے قربانیاں دینے لگیں گے اور تکمیل اشاعت دین کے وقت یعنی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں ایک عالم کا عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں آپ کی رحمت کے سایہ میں آجائے گا اور اس وقت خدا تعالیٰ کے وہ وعدے بھی پورے ہوں گے جو اس نے ابتدا ہی میں دئے تھے کہ تمام بنی نوع انسان اللہ کی محبوب امت واحدہ بنا دیئے جائیں گے۔غرض اس آیہ کریمہ میں یعنی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ میں پانچ باتیں بیان ہوئی