خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 750
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۵۰ خطبہ جمعہ ۱۶ رجون ۱۹۶۷ء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دعا قبول ہوئی اور خدا کے حکم سے میں اتلُوا الْقُرْآنَ قرآن کریم کی آیات و بینات دنیا کے سامنے رکھ رہا ہوں۔پھر دعا یہ تھی کہ يُعَلِّمُهُمُ الكتب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اتْلُوا الْقُرآن میں کامل شریعت اس دعا کی قبولیت کی وجہ سے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہوں۔پھر دعا یہ تھی کہ وہ حکمت کی باتیں سکھائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتْلُوا الْقُرْآنَ میں یہ قرآن جو حکمت سے پر اور بھرا ہوا ہے اور حِكْمَةٌ بالِغَةٌ ہے اسے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہوں تو ان تینوں دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ایک دولفظی فقرہ کہلوایا اور تینوں باتوں کی طرف اشارہ کر دیا اور ان معنی کی لغت بھی تصدیق کرتی ہے۔پانچویں چیز یہ تھی کہ یزکیھم وہ ان کا تزکیہ کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے يُزكيهم کے مقابلہ میں ان آیات میں یہ فرمایا کہ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ (يونس: ١٠٩) یعنی (ابراہیمی ) دعا کے مفہوم سے زائد مفہوم دنیا کے سامنے رکھا۔فَمَنِ اهْتَدی میں یہ اعلان کیا کہ میں تزکیۂ نفس کے سارے سامان لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔اس لئے یزکیھم والی دعا پوری ہوگئی۔لیکن میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ تمہارا تزکیۂ نفس کسی جبر کے نتیجہ میں نہیں کیا جائے گا۔تزکیہ نفس کے یہ سامان ہیں۔میں ان سامانوں کو تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ اب تمہیں خود مجاہدہ کر کے ، اب تمہیں خود قربانیاں دے کر ، اب تمہیں خود خلوص نیت کا اظہار کرتے ہوئے خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو لٹا کر اپنے لئے تزکیہ نفس پیدا کرنا ہو گا سامان میں لے آیا ہوں مگر یہ تزکیۂ نفس جبرا تم پر ٹھونسا نہیں جائے گا بلکہ آزادی ضمیر ہے اور تزکیہ کے سامان ہیں ان کا استعمال کرنا ، ان سے فائدہ اُٹھانا اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا اور طہارت اور پاکیزگی کامل جانا اس کے لئے تمہیں کوشش کرنی پڑے گی کوئی غیر یا بالا کی طاقت تمہیں مجبور کر کے تمہارا تزکیۂ نفس نہیں کرے گی اور نہ کر سکتی ہے۔تو فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِ ہدایت کا سامان آگیا ہے تزکیۂ نفس کا سامان آ گیا ہے جو شخص اس تزکیہ نفس کے