خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 744
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۴۴ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی لئے فرماتے ہیں:۔پس اُٹھو! اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا سواپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آئے تم خدا سے صلح کر لو۔وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے نشتر برس کے گناہ بخش سکتا ہے اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔یاد رکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ہمیشہ فضل بچہ ، بچاتا ہے نہ اعمال۔اے خدائے کریم و رحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔آمین۔آج مجھے گرمی کی وجہ سے تکلیف رہی ہے اور یہاں مسجد میں بھی بڑی گرمی ہے دوستوں کو بھی لمبے خطبہ سے تکلیف ہو گی اس لئے آج میں صرف اسی پر بس کرتا ہوں اور باقی مضمون اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل سے آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔روزنامه الفضل ربوه ۱۸ جون ۱۹۶۷ صفحه ۱ تا ۴)