خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 732 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 732

خطبات ناصر جلد اول ۷۳۲ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء کو پاک کرنے کی کوشش کریں۔لیکن اگر دعا کرنے والے کا دل تقومی کے نور سے منور نہ ہو یا اس کا سینہ پاکیزگی کی خوشبو سے خالی ہو یا اس کی زبان راست گوئی کا طریق اختیا کرنے والی نہ ہو اور اس کا دل کامل یقین اور کامل محبت سے پر نہ ہو۔اس کا ذہن کامل توجہ سے اپنے رب کی طرف جھکنے والا نہ ہو یا جو چیز مانگی گئی ہے وہ عَلامُ الْغُيُوبِ کے نزدیک اس شخص کے لئے جس کے لئے وہ مانگی گئی خیر کا موجب نہ ہو تو تمام حالتوں میں دعا کو ر ڈ کر دیا جاتا ہے مگر آخری صورت میں اللہ تعالیٰ کسی اور رنگ میں ایسی دعا کا انسان کو بدلہ دے دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔کیا یہ تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانون قدرت ہے کہ دعا پر حضرت احدیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوش حالی ملتی ہے اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑا مانگتا ہے اپنی دعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے اور با ایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گو یا ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔تب اس مردفانی کی دعائیں فیوض الہی کو آسمان سے بھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔جن سے کام بن جائے۔“ ۵۲ تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دعا کے متعلق تین بنیادی باتیں ہمیں بتاتا ہے۔ایک یہ کہ جب تک ہم دعا کے ذریعہ سے مقبول دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو