خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 731 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 731

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۳۱ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جل شانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔انیسواں مقصد یہ بیان ہوا تھا کہ صفت سمیع کے ہی نہیں بلکہ صفت علیم کے جلوے بھی دنیا اس اُمت کے ذریعہ دیکھے گی بعض دعاؤں کا رڈ ہو جانا یا بعض دعاؤں کا اس رنگ میں پورا نہ ہونا جس رنگ میں وہ مانگی گئی تھیں، یہ ثابت نہیں کرے گا کہ ہمارا خدا عز وجل سمیع نہیں ہے یا تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک نہیں ہے بلکہ یہ ثابت کرے گا کہ جہاں وہ قادر و توانا سمیع ہے وہاں وہ علیم بھی ہے اور قبولیت دعا کا اس کی صفت علیم کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :۔اور یہ بھی یادر ہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتا ہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحتِ الہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں۔مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبولیت دعا کے لئے جن شرائط کا ذکر کیا ہے یعنی تقوی ، طہارت کامل یقین ، کامل محبت وغیرہ یہ اس قبولیت دعا سے متعلق ہیں جو اصطفاء کے رنگ میں ہو لیکن جو قبولیت دعا ابتلا کے رنگ میں ہو اس کا ان شرائط سے تعلق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے اور فرمایا ہے کہ کچنیوں کو بھی اللہ تعالیٰ سچا خواب دکھاتا ہے۔تاکہ ان کی ہدایت کے سامان پیدا کرے تا وہ ان کے دل میں یہ خیال پیدا کرے کہ وہ اس گند سے باہر نکلیں اور پاکیزگی کے منبع اور سر چشمہ کی طرف بھاگیں اور اپنے آپ