خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 724
خطبات ناصر جلد اول ۷۲۴ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء ترقیات کے دروازے ان کے اوپر کھولے جائیں گے وہ باتیں جو پہلے بطور اسرار کے تھیں اور جو راز تھا روحانی ، وہ ان پر منکشف اور ظاہر ہو جائے گا اور اس کے نتیجہ میں مومن کی روحانیت ترقی کرے گی اور یہ کیفیت آنهرُ مِنْ لَبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُۀ ایک ایسے دودھ کی شکل اختیار کر جائے گی جس کے خراب ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں ہو گا پھر ان روحانی علوم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک حقیقی اور گناہ سوز عشق ان میں پیدا ہو جائے گا اپنے وجود پر وہ ایک موت وارد کر لیں گے۔خدا تعالیٰ کی محبت میں کھوئے جائیں گے اس کے عشق میں ہمیشہ مست رہیں گے اور ان کیفیات کو انھر مِنْ خَيْرٍ نَزَّةٍ لِلشربین کی شکل دے دی جائے گی یہاں یہ بھی بتایا کہ جو اس کا تجر بہ نہیں رکھتا وہ اس کی لذت کو کیا جانے اور اسی وجہ سے ایسے لوگ عشق الہی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ بہت سے ابتلاؤں کے کانٹے بھی اس نہر کے گرد بوئے گئے ہیں لیکن جو ایک دفعہ اس کو چکھ لے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اسے حاصل ہو جائے وہی بتا سکتا ہے کہ وہ لذت جو عشق الہی میں ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں اور پھر فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا ہو جائے اور اس کے مقدر میں اَنْهرُ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّی ہیں وہ تمام بیماریوں سے شفا حاصل کر لیتا ہے پھر کوئی بیماری اس کے او پر حملہ آور نہیں ہو سکتی کلی شفاوہ پالیتا ہے تمام شیطانی حملوں سے وہ محفوظ ہو جاتا ہے گویا کہ وہ خدا کی گود میں آ گیا اور کسی قسم کا کوئی خطرہ اس کو نہ رہا۔یہ کیفیت ہے جو انھرُ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّی کی شکل میں اس دنیا میں بھی ایک رنگ میں اور اُس دنیا میں بھی اس دنیا کے رنگ میں پیدا ہو جائے گی۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَهُمُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ کہ یہ پھل جو ہیں اسلام سے تم پاؤ گے یعنی ہر قسم کے پھل تمہیں دیئے جائیں گے ہر قسم کے درخت ہوں گے جو صحیح عقائد ہوں گے وہ درخت کی شکل اختیار کریں گے۔پھر ایسا ایمان تمہیں دیا جائے گا کہ تم شوق و بشاشت کے ساتھ ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کر کے اعمالِ صالحہ بجالاؤ گے اور ان اعمال صالحہ کو پانی کی نہروں کی شکل میں بنادیا جائے گا جن سے وہ باغ پرورش پائیں گے پانی کے بغیر باغ پرورش نہیں پاسکتا۔اعمال صالحہ کے بغیر صحیح اعتقادات پر انسان قائم ہی نہیں رہ سکتا۔جب عمل صالحہ نہ رہے تو پھر