خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 723 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 723

خطبات ناصر جلد اول ۷۲۳ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء فساد نہ ہو وہ ان پھلوں کو حاصل کرتا ہے تو یہاں يُجْبَى اِلَيْهِ ثَمَرتُ كُلِّ شَيْءٍ کو حرم کے ساتھ اور حرم کو ان کے موقف وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نَتَخَطَّفُ مِنْ أَرْضِنَا۔ان کے موقف کی تردید میں ایک دلیل ٹھہرا کر اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ابراہیمی دعا میں جن پھلوں کا جن جزاؤں کا ذکر تھا، ان کا تعلق حقیقی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امت محمدیہ کے ساتھ تھا اور ہے اور قائم رہے گا۔یہ ثمرات جو ہیں ( مِنَ الثَّمَرتِ ) اس کی تفسیر قرآن کریم میں سورۃ محمد میں بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ج مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ، فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اسِنِ ۚ وَ انْهُمْ مِنْ تَبَن لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَ اَنْهرُ مِنْ خَيْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّرِبِينَ وَانْهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ - (محمد: (١٦) اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ متقی جو اس ہدایت پر عمل کرتے ہیں جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (سورہ بقرہ کے شروع میں ہی ) ان کا پختہ ایمان اور ان کے صحیح اعتقادات جو ہیں ان کو ایک باغ کی شکل میں درختوں کی شکل میں پیدا کر دیا جاتا ہے اس دنیا میں بطور مجاز کے اور اس دنیا میں حقیقی طور پر وہ درختوں کی شکل کو اختیار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہماری ہدایت پر عمل کر کے جو حقیقی معنی میں متقی بن جاتے ہیں ان کو ایک جنت دی جاتی ہے جس میں ہر قسم کے درخت لگے ہوئے ہوتے ہیں اور فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اسِن ان کو اعمال صالحہ کی تو فیق عطا کی جاتی ہے اور ان کو بشاشت قلبی عطا کی جاتی ہے کہ وہ اس کے مزے کو چکھ کر وہ ان اعمال کو چھوڑنے کے لئے کسی قیمت پر بھی تیار نہیں ہوتے پس فرمایا کہ ان اعمالِ صالحہ کو ایسی نہروں میں تبدیل کر دیا جائے گا، اس زندگی میں بھی اس دنیا میں بھی کہ جس میں ایسا پانی ہو جو خراب ہونے والا نہ ہو یعنی ایک دفعہ اعمال صالحہ کا چسکہ پڑ جانے کے بعد پھر یہ چسکہ کبھی چھوٹے گانہیں پھر جب پختہ ایمان کے نتیجہ میں ان ہدایتوں کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہیں وہ صحیح معنی میں خلوص دل کے ساتھ اعمال صالحہ بجالانے لگیں گے تو مزید روحانی