خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 708
خطبات ناصر جلد اول 2۔1 خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تم ان مقاصد کو پورا کرو اور تمام دنیا میں ، اقوام عالم میں شریعت اسلامیہ کو قائم کرو اور اسے زندہ رکھو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں جو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ تم بیت اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے مقاصد کو ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھا کرو۔یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت کو پر پورا کرنا چاہتا ہوں وَلاتم نِعْمَتَى عَلَيْكُم - اتمام نعمت کی غرض سے یہ مقاصد میں نے تمہارے سامنے رکھے ہیں اگر تم ہماری بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق ان مقاصد کے حصول کے لئے سعی کرو گے اور خلوص نیت سے ہمارے احکام بجالا ؤ گے تو تم پر ہماری جو نعمتیں ہوں گی وہ اس طور کی ہوں گی اور اس نوعیت اور قسم کی ہوں گی کہ ان کے متعلق اتمام نعمت کا فقرہ بولا جا سکے گا اور لاتم نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ( آیت ۱۵۲) میں کہ ایک رسول تمہاری طرف بھیجا گیا ہے جو پاکیزگی کی تعلیم تمہیں دیتا ہے۔چونکہ طبعاً سوال پیدا ہوتا تھا کہ اے خدا ! مقاصد کا تو ہمیں پتہ چل گیا، مگر ہماری کوششوں کی راہوں کی ابھی تعیین نہیں کی گئی ، اگر تعیین ہو جاتی تو ہمارے لئے سہولت ہوتی اس لئے دوسری آیت (۱۵۲) میں بتادیا کہ جو راہ تمہیں میرا پیارا محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) بتائے وہی وہ راہ ہے جو پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے اور جس راہ پر چل کر تم مقاصد تعمیر بیت اللہ کو حاصل کر سکتے ہو فرمایا کہ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ابْتِنَا وَيُزيكُمْ کہ تمہارے تزکیہ کے سامان اس رسول کے ذریعہ سے ہم نے مہیا کر دیئے ہیں۔اس لئے کہ وہ آیات پڑھ کر سناتا ہے کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی حکمتیں بیان کرتا ہے۔پس طھورا میں جو غرض بیان کی گئی تھی اور جس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا، اس کو پورا کرنے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔خود قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آپ اس غرض کو پورا کرنے والے ہیں، کیونکہ یہاں مسجد حرام، مقاصد کا سامنے رکھنا، اتمام نعمت اور تزکیۂ نفوس اور اس کے طریق یہ تمام باتیں ان دو آیتوں میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔سورۃ بقرہ کی آیات میں عام پاکیزگی کا ذکر تو ہے لیکن زیادہ زور روحانی اور دینی پاکیزگی