خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 697
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۹۷ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء (۲) دوسرا امر جو اس بات کے سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ ایک دین دوسرے تمام دینوں پر اپنی خوبیوں کے رو سے غالب ہے یہ ہے جو دنیا کی تمام قومیں آزادی سے باہم مباحثات کر سکیں اور ہر ایک قوم اپنے مذہب کی خوبیاں دوسری قوم کے سامنے پیش کر سکے اور نیز تالیفات کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی خوبی اور دوسرے مذاہب کا نقص بیان کر سکیں اور مذہبی کشتی کے لئے دنیا کی تمام قوموں کو یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے پر مذہبی بحث کے حملے کریں۔۔۔اور یہ مذہبی کشتی نہ ایک دوقوم میں بلکہ عالمگیر کشتی ہو۔۔۔(۳) تیسرا امر جو اس بات کو تمام دنیا پر واضح کرنے کے لئے شرط ہے کہ فلاں دین بمقابل دنیا کے تمام دینوں کے خاص طور پر خدا سے تائید یافتہ ہے۔۔۔وہ یہ ہے کہ بمقابل دنیا کی تمام قوموں کے ایسے طور سے تائید الہی کے آسمانی نشان اس کے شامل ہوں کہ دوسرے کسی دین کے شامل حال نہ ہوں۔۔۔اور دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک کوئی مذہب نشان آسمانی میں اس کا مقابلہ نہ کر سکے باوجود اس بات کے کہ کوئی حصہ آبادی دنیا کا اس دعوت مقابلہ سے بے خبر نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب دنیا میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ تمام دنیا کے مذاہب کی دین اور روحانیت کے میدان میں کشتی ممکن ہوگئی ہے۔تمام اقوام اپنے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کر کے دوسرے مذاہب سے مقابلہ کر سکتے ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دین کے میدان میں سب دنیا کے مذاہب کو پکارا، یہ مقابلہ آپ کے زمانہ میں شروع ہو گیا گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مختلف دعوت ہائے فیصلہ میں نے بھی دنیا کے سامنے رکھی تھیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی سفر یورپ کی تو میں ارادہ رکھتا ہوں کہ وہاں کے ملکوں میں جو عیسائی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ان دعوت ہائے فیصلہ کو دہراؤں اور امن اور صلح کی فضا میں اسلام کے مقابلہ میں انہیں دعوت دوں کہ اپنی حقانیت کو (اگر وہ اپنے مذاہب کو حق سمجھتے ہیں ) ثابت کریں اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ اگر وہ میدان فیصلہ میں آئے تو اللہ تعالیٰ ایسے