خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 690 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 690

خطبات ناصر جلد اول ۶۹۰ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ پر فرض سمجھتے ہوئے حج کرنے کا پختہ ارادہ کرے وہ حج کے ایام میں (جیسا کہ دوسرے دنوں میں ) کوئی شہوت کی بات یا کوئی نافرمانی کی بات یا کسی قسم کے جھگڑے کی بات نہ کرے یہ اس کے لئے جائز نہ ہوگا اور پھر فرمایا کہ جو کام بھی تم کرو گے اللہ ضرور اس کی قدر کو پہچان لے گا۔وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ تمہارا تعلق سفید نسل سے ہے یا تمہارا تعلق سیاہ نسل سے ہے۔بلکہ خواہ تم کسی بھی قوم کے فرد کیوں نہ ہو، کسی بھی خطہ زمین کے رہنے والے کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حج کو خدا کے کہنے کے مطابق اپنے لئے ضروری عبادت سمجھو گے اور جب وہ شرائط تمہارے حق میں پوری ہو جائیں گی جن کا تعلق حج کرنے کے ساتھ ہے اور اس فریضہ کو فریضہ جانتے ہوئے تم حج کرو گے اور حج کے دوران بھی ان تمام ہدائتوں کا پاس کرو گے جو ہدائتیں اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں تمہیں دی ہیں تو پھر اسے تمام بنی نوع انسان ! یہ سن لو کہ نیکی کا جو کام بھی تم کرو گے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری قدر قائم ہو جائے گی۔وہ تمہاری نیکی کو پہچانے گا۔کوئی چیز اس کی نظر سے غائب نہیں ہے اور اس قدر کے نتیجہ میں اس کی بے شمار نعمتوں کے تم وارث ہو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حج بیت اللہ صرف ظاہری مناسک حج کا ہی نام نہیں بلکہ ہر عبادت اسلامی کے پیچھے اس کی ایک روح ہے ظاہری عبادت جسم کا رنگ رکھتی ہے۔اس کے پیچھے ایک روح ہے جو شخص روح کا خیال نہ رکھے اور صرف جسم پر فریفتہ ہو وہ ایک مردہ کی پرستش کر نیوالا ہے۔اس کو ان عبادات کا جن کی روح کا خیال نہیں رکھا گیا۔کوئی ثواب نہیں ملے گا۔بلکہ اس کے ساتھ اس کے رب کا وہی سلوک ہوگا جو ایک مردہ پرست کے ساتھ ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج کے متعلق فرمایا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سالک کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو جاوے۔عاشق اور محب جو سچا ہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کر دیتا ہے اور بیت اللہ کا طواف اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے۔جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے۔جب تک آدمی اس کا طواف نہ کرے اس کا طواف بھی نہیں ہوتا۔اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اوتار