خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 683
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۸۳ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ استحکام کے سامان پیدا کرے گا انشاء اللہ۔تو ہزاروں نشانات ہیں جن کا سلسلہ خلافت مسیح محمدی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے جاری کیا ہے۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ چونکہ خلیفہ راشد فنا کے اور نیستی کے مقام پر ہوتا ہے اس لئے عام طور پر وہ ایسی باتوں کا اظہار نہیں کیا کرتا۔جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کے اظہار کی باتیں ہوتی ہیں۔سوائے ایسی باتوں کے جن کا تعلق سلسلہ کے ساتھ ہو اور جن کا بتایا جانا ضروری ہو۔بلکہ اپنے تجربہ کی بناء پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ خلفائے راشدین کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ منع کرتا رہا ہے کہ اپنے مقام قرب کا کھل کر اظہار نہ کیا کریں اور اپنے ذاتی تجربہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک فرمان اور تاریخی گواہیوں کے پیش نظر میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے تاریخ نے خلفاء راشدین سابقین کی صرف چند ای بینت محفوظ کی ہیں۔مثلاً میرے 66 خیال میں پانچ دس سے زیادہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نشانات بیان نہیں کئے۔یعنی جو پیش خبریاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دی گئیں یا جو بشارتیں آپ کو دی گئیں ان میں سے چند ایک تاریخ میں محفوظ ہیں زیادہ نہیں ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہزار ہا پیش خبریاں اور مکالمے مخاطبے ان بزرگ خلفاء راشدین سے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمان تو حق اور صداقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخ خاموش ہے نتیجہ یہ نکالنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ ان باتوں کا پبلک میں اظہار نہیں کیا کرتے تھے۔سوائے ضرورت کے وقت کے ،سوائے ان باتوں کے جن کا سلسلہ کے نظام سے ،نظام سے تعلق ہو اور ان کا بتایا جانا ضروری ہو۔مثلاً ایک وقت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جب جماعت کے خلاف بہت فتنہ و فساد تھا فرمایا تھا کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے اگر میں تمہیں بتا دوں تو تمہارا زندہ رہنا ہی مشکل ہو جائے گا ( الفاظ مجھے یاد نہیں مفہوم اسی قسم کا تھا)۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ فِیهِ ایت بيّنت کا جو وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وعدے کو پورا کرنے والے ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیا نے اللہ تعالیٰ کے لاکھوں نشانات کا مشاہدہ کیا ہے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے بھی اور دوسرے جو بزرگ جماعت احمدیہ میں پائے