خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 677 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 677

خطبات ناصر جلد اول ۶۷۷ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء کیں) ہدایت پر قائم ہیں۔وہ ایک حقیقی اور کامل فلاح اور کامیابی کو پاتے ہیں اور پہلی تمام اُمتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔تو اس وقت اس خطبہ میں میں نے تعمیر کعبہ سے تعلق رکھنے والے دو مقاصد کے متعلق کچھ بیان کیا ہے۔ایک یہ کہ (مُبَارَگا ) اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ کعبہ کو مبارک بنائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہر دو معنی میں بیت اللہ مبارک بن گیا اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ یہاں ایک ایسی ہدایت بھیجے جو ھدی للعلمین ہو۔شریعت کے کمال کی وجہ سے بھی اور اپنے افاضہ کے لحاظ سے بھی اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم کے ذریعہ پورا ہوا ہے۔ورنہ مکہ میں تو کوئی اور شریعت تھی ہی نہیں لیکن جو دوسری شریعتیں ہیں انہوں نے بھی نہ یہ دعوی کیا۔اور نہ وہ یہ دعویٰ کر سکتی تھیں قرآن کریم نے ہی یہ دعوی کیا ہے اور قرآن کریم نے اس دعوی کو عملی میدان میں ثابت بھی کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام میں ہزاروں لاکھوں ایسے مقدس وجود پیدا ہوئے جن کی زندگیاں دلیل ہیں اس بات پر کہ جو بھی قرآن کریم کی اتباع کرتا اور اس ہدایت کے پیچھے چلتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے هُدًى لِلعلمین قرار دیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی انتہائی برکتوں سے حصہ لیتا اور اس کا انجام بخیر ہوتا ہے اور انسانی نفس کو کمال تک پہنچانے کے لئے اور اس کے تزکیہ کو پورا کرنے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں نے قرآن کریم پر عمل کیا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کا وجود مبارک اور کامل وجود بنا اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اس بات پر گواہ ہے کہ فی الواقع یہ لوگ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور روحانی میدانوں میں ہر لحظہ اور ہر آن ان کا قدم آگے ہی آگے کی طرف چلا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس گروہ میں شامل کرے۔谢谢谢 روزنامه الفضل ربوه ۱۴ رمئی ۱۹۶۷ ء صفحه ۱ تا ۵)